سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین عمران خان کیخلاف توشہ خانہ کیس کا فیصلہ معطل کرنے کی درخواست بنچ کی عدم دستیابی پر فوری طور پر سننے کی استدعا مسترد کردی ہے۔
تفصیل کے مطابق عدالت عظمیٰ میںپی ٹی آئی کے بانی چیئرمین عمران خان کی جانب سے توشہ خانہ کیس کا فیصلہ معطل کرنے سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی۔ پی ٹی آئی کے وکیل نے معزز عدالت سے استدعا کی کہ اس درخواست کو فوری طور پر سنا جائے۔
قائم مقام چیف جسٹس سردارطارق مسعود کا ریمارکس دیتے ہوئے کہنا تھا توشہ خانہ کیس میں ہائیکورٹ کا فیصلہ ڈویژن بنچ کا ہے، رواں ہفتے 3 رکنی بنچ دستیاب ہی نہیں ہے۔ وکیل شہباز کھوسہ نے کہا کہ پوری قوم اس مقدمے کی جانب دیکھ رہی ہے. 30 دسمبر 2023ءسے پہلے توشہ خانہ مقدمے میں ریلیف ملا تو عمران خان عام انتخابات میں حصہ لےسکتے ہیں۔
سپریم کورٹ کے معزز جج جسٹس اطہر من اللہ کا ریمارکس دیتے ہوئے کہنا تھا کہ ایسی کوئی نظیر نہیں ہے کہ سزا معطل ہونے پر پورا فیصلہ ہی معطل ہوجائے ۔ آپ ایک ایسی چیزچاہ رہے ہیں جس کی مثال پاکستان کی تاریخ میں کبھی نہیں ملتی، اس پرپی ٹی آئی وکیل نے کہا کہ مخدوم جاوید ہاشمی کے مقدمے میں ایسا ہو چکا ہے۔









