مہنگائی سے بلبلاتی عوام کو حکومت نے عید سے پہلے عیدی دے دی،پیٹرول کی قیمت میں فی لیٹر 9 روپے کا اضافہ کردیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق 9 روپے 66 پیسے اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 289روپے 41 پیسےہوگئی،دوسری جانب ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 32 پیسے کمی ہوگئی ۔
عید سے قبل حکومت کی جانب سے پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کرکے عوام پر مہنگائی کا مزید بوجھ لاد دیا گیا ہے،ریلیف کے لیے ترستی عوام کو اگلے پندرہ دنوں تک 289 روپے فی لیٹر پیٹرول ڈلوانا پڑے گا۔
یاد رہے 15 روز قبل حکومت نے آئندہ 15 روز کے لیے پیٹرول کی قیمت 279.75 روپے فی لیٹر پر برقرار رکھنے اور ڈیزل کی قیمت میں 1.77 روپے فی لیٹر کمی کرکے 285.56 روپے کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
حکومت پہلے ہی پیٹرول اور ڈیزل دونوں پر 60 روپے فی لیٹر ڈیولپمنٹ لیوی وصول کر رہی ہے، یہ قانون کے تحت زیادہ سے زیادہ حد ہے، عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ساتھ کیے گئے وعدے کے تحت رواں مالی سال میں حکومت کا پیٹرولیم لیوی کی مد میں 869 ارب روپے وصول کرنے کا ہدف ہے۔
حکومت پہلی ششماہی (جولائی تا دسمبر) کے دوران 475 ارب روپے حاصل کر چکی ہے، حکومت مالی سال کے آخر تک تقریباً 970 ارب روپے جمع ہونے کی توقع ہے حالانکہ نظرثانی شدہ ہدف اب جون کے آخر تک 920 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔
پٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی قیمتیں مہنگائی میں اضافے کے اہم محرک رہے ہیں، پیٹرول کا زیادہ تر استعمال نجی ٹرانسپورٹ، چھوٹی گاڑیوں، رکشوں اور موٹرسائیکلوں میں ہوتا ہے، جس سے کم اور متوسط آمدنی والوں کے بجٹ پر براہ راست اثر پڑتا ہے۔









