344

طالب علم جامعہ مسجد اقصی مدرسہ ابوالقاسم رحمت اللہ کشمیری صاحب جو فوت ہو گئے ہیں

طالب علم جامعہ مسجد اقصی مدرسہ ابوالقاسم رحمت اللہ کشمیری صاحب جو فوت ہو گئے ہیں یہ لڑکا ان کے مدرسے کا طالب علم ہے واقعہ کچھ یوں ہے یہ لڑکا اور مدرسے کے دوسرے لڑکے اور گلی کے لڑکے کرکٹ کھیلنے کے لئے گئے وہاں پر اچانک سے گیند چودھری شعیب جنکی سردار آٹو سٹور والوں کے نزدیک ٹریکٹر آٹو سپیر پارٹس کی دکان ہے ان کے لڑکے کو لگ گئی پہلے تو گراؤنڈ کے اندر اسے مارنا شروع کیا اس طالب علم کو جب گھر آئے تو اپنے بڑوں کو بتایا انہوں نے بھی اس طالبعلم کو مدرسے سے نکال کے مارنا شروع کر دیا اتنا مارا اتنا مارا سر کے اندر اینٹی ماری
اس موقع پر کافی لوگوں جمع ہوگئے آج بھی ریکارڈ کے طور پر قریبی گھروں کے جو لگ ہوئے کیمرے ہیں سی سی ٹی وی میں یہ سارا کچھ دیکھا جا سکتا ہے
میرا سوال ہے مدرسے میں پڑھانے والے استاد اکرام سے مولانا اکرم مدنی صاحب سے آپ نے ان چودھری سے اپنے تعلقات کی وجہ سے مدرسے کے
اس طالب علم اس قدر مارا گیا جس کی حد ہی بیان نہیں کی جاسکتی آپ نے قانونی طور پر کاروائی کیوں نہ ہونے دیں
جب ایس ایچ او الہ آباد موقع پر آیا تو آپ نے ان چودھریوں کے خلاف پرچہ کیوں نہیں کٹوایا

مدرسے کا نظام ختم ہو کر رہ گیا لوگ اپنے بچوں کو لے گئے
ابھی تک آپ نے قانونی کارروائی ان کے خلاف کیوں نہیں کی
کیا یہ وہی لوگ ہیں جو آپ کو ماہانہ منتھلی بھیجتے ہیں
آپ جماعتی بنیاد پر اس مسئلہ کو دبا دینا چاہتے ہیں اور ظالم کا ساتھ دے رہے ہیں
چوہدری شعیب اور چودھری جاوید شمشاد کا تعلق آپ کی جماعت سے ہے اور یہ چوہدری شمشاد کی بہن کا گھر ہے
کسی صحافی نے بھی خبر نہیں لگائی کیونکہ یہ بہت بڑے غنڈے اور چودھری ہیں اور ہر صحافی چودھریوں کی ٹی سی کرنا اپنا فرض سمجھتا ہے
ایس ایچ او الہ آباد کان کھول کے سن لیجئے آپ نے جتنی مرضی بھاری رقم رشوت وصول کی ہے لیکن یہ معاملہ دبنے والا نہیں ہے
ابھی یہ قسط جاری ہے
سب سے کہتا ہوں کہ اس معاملے کو ہائی لیٹ کریں خدا کی قسم اس طالبعلم پر ظلم و زیادتیوں کے پہاڑ توڑے گئے ہیں اس طالب علم دین کے طالب علم کی مدد کرو
تاکہ ان ظالموں کو سزا مل سکے اور جو غنڈے دندناتے پھر رہے ہیں ان کو سزا مل سکے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں