طالب علم جامعہ مسجد اقصی مدرسہ ابوالقاسم رحمت اللہ کشمیری صاحب جو فوت ہو گئے ہیں یہ لڑکا ان کے مدرسے کا طالب علم ہے واقعہ کچھ یوں ہے یہ لڑکا اور مدرسے کے دوسرے لڑکے اور گلی کے لڑکے کرکٹ کھیلنے کے لئے گئے وہاں پر اچانک سے گیند چودھری شعیب جنکی سردار آٹو سٹور والوں کے نزدیک ٹریکٹر آٹو سپیر پارٹس کی دکان ہے ان کے لڑکے کو لگ گئی پہلے تو گراؤنڈ کے اندر اسے مارنا شروع کیا اس طالب علم کو جب گھر آئے تو اپنے بڑوں کو بتایا انہوں نے بھی اس طالبعلم کو مدرسے سے نکال کے مارنا شروع کر دیا اتنا مارا اتنا مارا سر کے اندر اینٹی ماری
اس موقع پر کافی لوگوں جمع ہوگئے آج بھی ریکارڈ کے طور پر قریبی گھروں کے جو لگ ہوئے کیمرے ہیں سی سی ٹی وی میں یہ سارا کچھ دیکھا جا سکتا ہے
میرا سوال ہے مدرسے میں پڑھانے والے استاد اکرام سے مولانا اکرم مدنی صاحب سے آپ نے ان چودھری سے اپنے تعلقات کی وجہ سے مدرسے کے
اس طالب علم اس قدر مارا گیا جس کی حد ہی بیان نہیں کی جاسکتی آپ نے قانونی طور پر کاروائی کیوں نہ ہونے دیں
جب ایس ایچ او الہ آباد موقع پر آیا تو آپ نے ان چودھریوں کے خلاف پرچہ کیوں نہیں کٹوایا
مدرسے کا نظام ختم ہو کر رہ گیا لوگ اپنے بچوں کو لے گئے
ابھی تک آپ نے قانونی کارروائی ان کے خلاف کیوں نہیں کی
کیا یہ وہی لوگ ہیں جو آپ کو ماہانہ منتھلی بھیجتے ہیں
آپ جماعتی بنیاد پر اس مسئلہ کو دبا دینا چاہتے ہیں اور ظالم کا ساتھ دے رہے ہیں
چوہدری شعیب اور چودھری جاوید شمشاد کا تعلق آپ کی جماعت سے ہے اور یہ چوہدری شمشاد کی بہن کا گھر ہے
کسی صحافی نے بھی خبر نہیں لگائی کیونکہ یہ بہت بڑے غنڈے اور چودھری ہیں اور ہر صحافی چودھریوں کی ٹی سی کرنا اپنا فرض سمجھتا ہے
ایس ایچ او الہ آباد کان کھول کے سن لیجئے آپ نے جتنی مرضی بھاری رقم رشوت وصول کی ہے لیکن یہ معاملہ دبنے والا نہیں ہے
ابھی یہ قسط جاری ہے
سب سے کہتا ہوں کہ اس معاملے کو ہائی لیٹ کریں خدا کی قسم اس طالبعلم پر ظلم و زیادتیوں کے پہاڑ توڑے گئے ہیں اس طالب علم دین کے طالب علم کی مدد کرو
تاکہ ان ظالموں کو سزا مل سکے اور جو غنڈے دندناتے پھر رہے ہیں ان کو سزا مل سکے









