جب ایک مجبور باپ کو پتا چلا کہ اس کی پیاری بیٹی پر جہیز کی وجہ سے شادی کی پہلی رات ہی ظلم کی انتہا کر دی گئ تو وہ بے بس باپ کانپتی ٹانگوں بھیگی آنکھوں اور دل میں ایک بوجھ لۓ اپنی بیٹی کے سسرال کی طرف روانہ ہوا وہاں پہنچے پر ظالموں نے اس باپ کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا
بے بس باپ کے سامنے اس کی مظلوم اور محبت کرنے والی بیٹی کے منہ پر طمانچے مارے گۓ گندی گالیاں دی گئ باپ بچارا بیٹی کی محبت میں ان ظالموں کے کی منت سماجت کرتا رہا
ظالم کا دل جب ظلم سے نہ بھرا تو اسلحہ نکال کر جان لینی کی کوشش کی جس پر اہل علاقہ نے دخل اندازی کرتے ہوۓ مظلوم خاندان کی جان بچائی
زیر نظر تصویر میں آپ شہزاد اور اس کے باپ کو دیکھ سکتے ہے کہ اسلحہ اٹھاۓ کیسے اپے سے باہر نہتے اور بے بس باپ کو للکار رہے ہے
اگر ہم اس دل دہلا دینے ظلم پر بھی آواز نہیں اٹھا سکتے تو ہمارا فیس بک چلانے یا صحافی ہونے کا کوئی فائدا نہیں ظلم پر خاموش رہنا بھی ظالم کے ساتھ دینے کے مترادف ہے
اب وقت ہے بطور انسان اس ظلم کے خلاف کھڑانا ہونا پڑے گا اگر ایسے درندوں کو انجام تک نہ پہچایا گیا تو کل کو اپ کی یا میری بہن بیٹی بھی ہوسکتی
ظلم تو پھر ظلم پے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے
388









