غلطی ہونا غلط نہیں ہے غلطی سے نہ سیکھنا غلط ہوتا ہے.
آزمائش نہ ہو تو مفاد پرست اور مخلص ساتھی میں فرق نہیں ہو پاتا ہے. جب مقصد عظیم ہو تو کامیابی یا ناکامی اہم نہیں بلکہ عظیم مقصد کو پانے کا طریقہ کار اہم ہوتا ہے. حق کا راستہ دشوار اور لمبا ضرور ہوتا ہے مگر اس پر چلنے والے مسافر کو منزل ملے نہ ملے اطمینان ضرور ملتا ہے. جبکہ باطل راستہ مختصر اور آسان ہوتا ہے اور منزل مل بھی جائے تو اطمینان نہیں ملتا ہے.
ہم مطمئن ہیں کہ ہماری منزل حصولِ پاکستان کے حقیقی مقصد “اسلامی فلاحی ریاست کا قیام” ہے اور اپنی آخری سانس تک جدوجہد جاری رکھیں گے. یہ مقصد کسی شخصیت سے مشروط نہیں بلکہ ہر نظریاتی پاکستانی کا نصب العین ہے. ہم سب کمزور ہیں کبھی کبھی کوتاہیاں ہو جاتی ہیں لیکن ہم اپنے نصب العین سے کبھی نہیں ہٹ سکتے ہیں. کیونکہ جو خوددار ہو وہی اپنے نصب العین کے محافظ ہوتے ہیں اس لیے سب سے پہلے خودداری کو یقینی بنانا ہوگا.
ہمیں فخر ہے کہ ہمارے وزیر اعظم عمران خان نے ایک بار پھر نئی نسل کو حصول پاکستان کہ حقیقی مقصد سے روشناس کرایا، نصب العین کو پھر سے متعین کیا، اور اس کے حصول کے لیے خودداری کا بھولا ہوا سبق عملی طور پر یاد دلایا.
ہم سب کو بارہا یاد دلایا کہ پاکستان کے لیے “ریاست مدینہ” ہی ایک واحد عملی نمونہ ہے. اس لیے ہمیں اپنی جدوجہد کو جاری رکھنا چاہیے کہ پاکستان اس عملی نمونہ کے قریب تر ہوتا جائے. یہ ایک لمبا، دشوار، اور آزمائشوں سے بھرپور راستہ ہے لیکن ہماری کوشش ہونی چاہیے جو بھی قدم اٹھے اسی منزل کی طرف گامزن ہو.
ہم جانتے ہیں دنیا و آخرت کے عظیم ترین رہنما، ریاست مدینہ کے بانی، حضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم کا اسوہ ہی ہمارے لیے عملی نمونہ ہے. آپ صل اللہ علیہ والہ وسلم نے ایک جماعت بنائی جو ریاست مدینہ کی وارث بنی. اس جماعت کو آزمایا بھی گیا اور نوازا بھی گیا.
ہم سب پاکستانیوں کے لیے نصب العین متعین ہے کہ
حصول پاکستان کے حقیقی مقصد “اسلامی فلاحی ریاست کا قیام” کے لیے تن، من، دھن، کی قربانی کی پرواہ کیے بغیر جدوجہد جاری رکھیں گے.
382









