460

زہریلی چائے

جیسے ہی میں دو سینئر صحافی دوستوں کے ہمراہ ڈی۔پی۔او آفس میں داخل ہوا۔ داخلی دورازے پر تعینات پولیس افسران نے روکنے کی زحمت کی تو میرے سینئر دوست نے اپنا تعارف کروایا تو سیکیورٹی افسران کے لہجے میں ہمارے لیے عزت و احترام جھلکنے لگا۔ جس پر مجھے بھی فخر محسوس ہوا۔ ہم ڈی۔پی۔او آفس کی مین بلڈنگ میں داخل ہو گئے۔ ڈی۔پی۔او آفس جانے کے لیے ہمارے پاس کوئی خاص مقصد نہیں تھا۔ میرے سینئر صحافی دوست نے رائے دی کہ ” ہم پہلے یہاں پر تعینات انسپکٹر (دوست) کو مل لیں پھر ڈی۔پی۔او کے پاس چلیں گے”۔
میں دونوں صحافی شخصیات سے جونئیر تھا میرے پاس ان کی ہاں میں ہاں ملانے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ لہذا ہم اس پولیس انسپکٹر کے کمرے میں چلے گئے ۔ جہاں موجود پولیس انسپکٹر نے ہمارا پرتپاک استقبال کیا فوری چائے اور بسکٹس آڈر کر دیے۔ چند لمحوں میں ہمارے سامنے میز پر چائے اور اعلیٰ قسم کے بسکٹ موجود تھے۔ مجھے اپنی صحافت پر فخر تو روز اؤل سے تھا مگر آج یہ فخر تھوڑا غرور میں تبدیل ہوتا لگ رہا تھا۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ چند لمحوں بعد میری خوشی افسردگی میں تبدیل ہونے والی ہے۔ ہم آدھا آدھا کپ چائے نوش فرما چکے تھے کہ ایک بوڑھا آدمی تقریباً ستر سال سے زائد عمر ہوگی۔ اجازت طلب کر کے انسپکٹر صاحب کے کمرے میں داخل ہوا اس کے ہاتھ میں ایک کاغذ تھا جس پر شاید کوئی درخواست تحریر کی گئی تھی۔ اس ضعیف آدمی نے درخواست انسپکٹر کے سامنے میز پر رکھ دی۔ اس سے پہلے کہ بیچارہ کچھ بولتا انسپکٹر صاحب کی غیرت جاگی اور انہوں نے درخواست اٹھا کر نیچے پھینک دی۔ اور بولے ” تمہیں پہلے بھی کہا تھا میرے آفس مت آنا تم پھر آ گئے دفع ہو جاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے محسوس ہوا کہ میری چائے میں اس ضعیف آدمی کا خون ہے۔ مجھے محسوس ہوا کہ اس انسپکٹر نے جو زہر اگلا ہے وہ تمام میری چائے میں آ گرا ہے۔ ایک سیکنڈ میں میری چائے زہر آلود ہو چکی تھی۔ اس انسپکٹر کے الفاظ و حرکات میرے دل میں نشتر کی طرح پیوست ہو گئے تھے۔ فرش پر پھینکی گئی درخواست کو اٹھاتے ہوئے ستر سالہ شخص کے ہاتھ کانپ رہے تھے اور آنکھوں نمی اتنی تھی کہ ہماری صحافت اور قانون کے ڈوب مرنے کے لیے کافی تھی۔
ممکن ہے اس عمر رسیدہ شخص کا کام کرنا کسی اور پولیس آفیسر کی ذمہ داری ہو۔ مگر اس قدر دھتکارنا اور تذلیل کرنا کسی آفیسر کو زیب نہیں دیتا۔
میں نے اپنا آدھا چائے کا کپ واپس میز پر رکھ دیا تھا۔ اور سامنے بیٹھا آفیسر مجھے دؤر حاضر کا فرعون لگ رہا تھا۔ مجھے محسوس ہو رہا تھا کہ ہماری صحافت کا جنازہ وہ ضعیف شخص اپنے ناتواں کندھوں پر لے جا چکا ہے۔کچھ ہی دیر میں ہم باہر آ گئے ۔ میری زندگی کی یہ سب سے زہریلی اور کڑوی چائے تھی۔

تحریر ۔۔۔اے۔ڈی فریاد

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں