364

محمد ندیم *لاہور میں کالج اساتذہ کا دھرنا*

*لاہور میں کالج اساتذہ کا دھرنا*

محمد ندیم

سیاست کی گرم بازاری میں کسی کو خبر نہیں کہ لاہور سیکرٹریٹ کے باہر تین ہفتے سے کالج اساتذہ دھرنا دیئے بیٹھے ہیں کل ملتان میں چونگی نمبر 6 پر انہوں نے مظاہرہ کیا تو اس مصروف سڑک پر ٹریفک بلاک ہو گئی۔ انتظامیہ سڑک کھلوانے کی کوشش کرتی رہی مگر کسی نے ان سے نہیں کہا کہ ان کے مطالبات بھی اعلیٰ سطح پر پہنچائے جائیں گے۔ یہ سرکاری کالجوں کے چھ ہزار اساتذہ ہیں۔ جن میں خواتین کی بڑی تعداد بھی شامل ہے۔ یہ اساتذہ پے پروٹیکشن کے لئے احتجاج کر رہے ہیں ان کے ساتھ جو کچھ کیا گیا ہے، اسے دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ ایک سیکرٹری سطح کا افسر جب چاہے اپنی سکہ شاہی کے تحت ایسا فیصلہ کر دے جس کا کوئی جواز ہو نہ دلیل، مجھے کافی عرصے سے یہ اساتذہ جو میرے سابق رفقائے کار بھی ہیں اس معاملے پر کالم لکھنے کا کہہ رہے تھے ان کا خیال تھا میرے کالم لکھنے سے شاید حکومت پنجاب اور چیف سکریٹری کے کانوں پر جوں رینگ جائے گی، حالانکہ جن کے کانوں میں عوام کے مسائل سے لبریز آواز نہ پہنچتی ہو انہیں ایک کالم کے ذریعے کیسے جگایا جا سکتا ہے۔ مگر اس کے باوجود اس تحریک میں پیش پیش پروفیسر تنویر عالم، پروفیسر حافظ ارشاد، پروفیسر شمائلہ حسین، چودھری غلام مرتضیٰ، ڈاکٹر طارق بلوچ، پروفیسر ارشاد حسین ملک، پروفیسر راضیہ، پروفیسر سعدیہ حسین، جرأت عباس، پروفیسر جاوید احمد، پروفیسر چاند رضوی، پروفیسر ناصر ادیب اور دیگر نے یہ اصرار جاری رکھا، کیونکہ وہ لاہور کے دھرنے میں سرد و گرم صورت حال کے باوجود ثابت قدمی کے ساتھ اپنے مطالبات کے حق میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ پروفیسر حافظ ارشاد نے مھے بتایا کہ چند روز بعد ماہ رمضان شروع ہونے والا ہے، لیکن ہمارا لاہور سکریٹریٹ کے باہر دھرنا جاری رہے گا اور سحری و افطاری ہم وہیں کریں گے۔
قصہ اس احتجاج کا یہ ہے کہ ساڑھے چھ ہزار کالج اساتذہ حکومتوں کی غلط پالیسی کے باعث متاثر ہوئے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ ملازمین کی تنخواہیں بڑھتی ہیں مگر یہ وہ اساتذہ ہیں جنہیں اگلے گریڈ میں ترقی دی گئی تو تنخواہ کم ہو گئی صرف یہی نہیں ان سے دی گئی تنخواہوں سے کٹوتیاں بھی کی جا رہی ہیں۔ اس انوکھے ظلم کی داستان کا احوال یہ ہے کہ پرویز مشرف کے دور میں پبلک سروس کمیشن نے 2002ء کے دوران کالج اساتذہ کنٹرکیٹ پر بھرتی کئے۔ حالانکہ پبلک سروس کمیشن سے ہمیشہ مستقل ملازمین بھرتی کئے جاتے ہیں اسی طرح 2005ء، 2009ء اور 2012ء میں بھی پبلک سروس کمیشن کے ذریعے کنٹریکٹ پر کالج اساتذہ رکھے گئے۔ انہیں بعد ازاں مختلف وقتوں میں مستقل کر دیا گیا۔ اس دوران انہیں انکریمنٹ بھی ملتی رہی اور تنخواہوں میں دوسرے ملازمین کی طرح اضافہ بھی کیا جاتا رہا۔ 2013ء میں ایک سکریٹری صاحب نے عہدہ سنبھالا تو یہ نادر شاہی حکم جاری کیا کہ ان اساتذہ کی سروس میں کنٹریکٹ ملازمت سے مستقل ملازمت کے درمیان کا جو عرصہ ہے، وہ انکریمنٹ اور بنیادی تنخواہ میں شمار نہیں ہوگا۔ صرف یہی نہیں بلکہ یہ حکم بھی جاری کیا کہ جو اساتذہ اس عرصے کے دوران انکریمنٹ اور اضافی تنخواہ لے چکے ہیں، ان کی تنخواہوں سے کٹوتی کی جائے۔ یوں مہنگائی کے اس دور میں یہ اساتذہ ترقی معکوس کا شکار ہیں اس حوالے سے عدالتوں اور سروس ٹریبونل کے فیصلے بھی ان اساتذہ کے حق میں موجود ہیں مگر پنجاب کے چیف سکریٹری ان پر عمل نہیں کر رہے۔ تنگ آمد بجنگ آمد، مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق اب یہ اساتذہ لاہور سکریٹریٹ کے سامنے دریاں بچھا کر بیٹھ گئے ہیں، میرے علم میں ہے یہ سب آپس میں چندہ اکٹھا کرتے ہیں تاکہ اس دھرنے کے اخراجات پورے کر سکیں، وہ قیمتی وقت جو ان اساتذہ کو اپنے تعلیمی اداروں میں گزارنا چاہئے اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کا ازالہ کرانے کے لئے وہ سڑکوں پر ضائع کر رہے ہیں۔
ان اساتذہ کا مطالبہ بہت سادہ اور جائز ہے ان کی کنٹریکٹ ملازمت کے عرصے کو شمار کر کے انہیں انکریمنٹس اور تنخواہیں دی جائیں اس اصول کو دیگر محکموں میں تسلیم کیا گیا ہے مگر محکمہ ہائر ایجوکیشن پنجاب اپنے اساتذہ کو یہ حق دینے سے انکاری ہے۔ چیف سکریٹری پنجاب کو شان بے نیازی چھوڑ کر ان اساتذہ کے پاس دھرنے میں آنا چاہئے، ان کے مسائل سننے چاہئیں، اگر وہ ایسا نہیں کر سکتے تو کم از کم ان اساتذہ کے نمائندوں کو اپنے پاس بلائیں اور ان کی معروضات سنیں۔ یہ پڑھے لکھے اور سلجھے ہوئے لوگ ہیں، شاید یہی ان کی کمزوری ہے۔ اگر یہ وہاں بیٹھ کے قانون اپنے ہاتھ میں لیتے، لا اینڈ آرڈر کی صورت حال پیدا کرتے تو شاید ان کی بات بھی سنی جاتی۔ ہمارے سرکاری محکمے آخر ہیں کس لئے کیوں ان کے خلاف لوگ سڑکوں پر آتے ہیں۔ انہیں مطمئن کیوں نہیں کیا جا…

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں