271

پاکستان کا ایران کے ساتھ تنائو ختم کرنے کا فیصلہ

پاکستان کا ایران کے ساتھ تنائو ختم کرنے کا فیصلہ،ایران سے سفارتی تعلقات بحال کرنے کی منظوری دے دی گئی۔

قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اجلاس میں قومی سلامتی کے معاملات پر غور کیا گیا۔ فورم نے صورتحال کا بھرپور جائزہ لیا اور پاکستان کی خودمختاری کی بلا اشتعال اور غیر قانونی خلاف ورزی کے خلاف افواج پاکستان کے پیشہ ورانہ اور متناسب ردعمل کو سراہا۔

اجلاس کے دوران شرکا کو پاکستان اور ایران کے درمیان موجودہ صورتحال اور خطے میں مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر اس کے اثرات کے حوالے سے سیاسی اور سفارتی پیش رفت سے آگاہ کیا گیا ۔ فورم نے ’’آپریشن مرگ بر سرمچار‘‘ کا بھی جائزہ لیا جو ایران کے اندر غیر حکومتی جگہوں پر مقیم پاکستانی نژاد بلوچ دہشت گردوں کے خلاف کامیابی کے ساتھ انجام دیا گیا ۔

سرحدوں کی صورتحال کے بارے میں اپ ڈیٹ اور قومی خودمختاری کی مزید خلاف ورزی کا جامع جواب دینے کے لیے ضروری مکمل تیاریوں کے بارے میں بھی غور کیا گیا۔ فورم نے اس غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت قطعی طور پر ناقابل تسخیر اور مقدس ہے۔ کسی کی طرف سے کسی بھی بہانے اسے پامال کرنے کی کوشش کا ریاست کی پوری طاقت سے جواب دیا جائے گا۔ پاکستانی عوام کی سلامتی اور تحفظ انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور اسے یقینی بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ ایران ایک ہمسایہ اور برادر مسلم ملک ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان موجودہ متعدد مواصلاتی ذرائع کو علاقائی امن اور استحکام کے وسیع تر مفاد میں ایک دوسرے کے سیکیورٹی خدشات کو دور کرنے کے لیے باہمی طور پر استعمال کیا جانا چاہیے۔ قومی سلامتی کمیٹیا جلاس نے اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی اصولوں کے مطابق تمام ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔

کمیٹی نے اس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ دہشت گردی کی لعنت سے اس کی تمام شکلوں اور مظاہر میں آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ پاکستان کو دہشت گردی کی اس لعنت سے کسی بھی دوسرے ملک سے کہیں زیادہ نقصان پہنچا ہے۔ اچھے ہمسائیگی کے تعلقات کے عالمی اصولوں کے مطابق دونوں ممالک باہمی طور پر بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے چھوٹی موٹی رکاوٹوں پر قابو پا سکتے ہیں۔ اپنے تاریخی تعلقات کو مزید گہرا کرنے کی راہ ہموار کریں گے۔

اجلاس میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی، چیف آف آرمی سٹاف، چیف آف نیول سٹاف اور چیف آف ائیر سٹاف کے سمیت انٹیلی جنس ایجنسیوں کے سربراہان نے شرکت کی ۔اجلاس میں نگراں وزرائے دفاع، خارجہ امور، خزانہ اور اطلاعات شریک تھے۔

نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کا اجلاس سے خطاب میں کہنا تھا کہ پاکستان تمام ممالک اور خصوصا ہمسائیوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات کا خواہاں ہے۔ پاکستان اور ایران برادر ممالک ہیں جو احترام اور محبت سے بھرپور تاریخی تعلقات سے جڑے ہیں۔باہمی تعلقات کو 16جنوری سے پہلے کی صورتحال پر لے جانا دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔اس حوالہ سے پاکستان ایران کی جانب سے تمام مثبت اقدامات کا خیرمقدم کرے گا۔

قبل ازیں پاک ایران وزرائے خارجہ کا ایک دوسرے کیساتھ ٹیلیفونک رابطہ ہوا۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے ایرانی ہم منصب حسین امیر عبداللہیان کو پاکستان کے موقف سے آگاہ کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں