پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان نے الزام عائد کیا ہے کہ انتظامیہ اور الیکشن کمیشن مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف کی مدد کر رہے ہیں۔
عمران خان نے یہ بات اڈیالہ جیل میں سائفر کیس کی سماعت کے بعد میڈیا نمائندوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ ا نہوں نے الزام عائد کیا کہ میاں نواز شریف کے صاحبزادے نے جو رہائش گاہ بیچی اس کی قیمت 18ارب روپے تھی، یہ رقم کہاں سے آئی۔ انتظامیہ اور الیکشن کمیشن نواز شریف کی مدد کر رہے ہیں۔ ان کے تمام مقدمات ختم کر دیے گئے ہیں۔ اب جو ملک میں چل رہا ہے یہ سلیکشن کی “ماں” ہے۔ جبکہ مجھے میرے دور اقتدار میں سلیکٹڈ کہا جاتا رہا۔جبکہ دوسری جانب نواز شرید “سرٹیفائیڈ منی لانڈرز “ہیں۔
سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نےاس دوران عمران خان کو میڈیا سے گفتگو کرنے سے روکا تو بانی پی ٹی آئی سیخ شدید غصے میں آگئے۔سپرنٹنڈنٹ جیل نے کہا کہ میڈیا نمائندے یہاں سیاسی گفتگو کے لیے نہیں بلکہ سماعت کو کوریج کرنے کیلئے آتے ہیں۔اس پر عمران خان نے کہا کہ جمہوریت کا مطلب ہی آزادی ہوتا ہے۔یہ الیکشن آزادی کا الیکشن ہے۔ ہمیں غلام بنایا جا رہا ہے۔ آپ نہیں روک سکتے ہیں۔ یہ اوپن ٹرائل ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرنا ہمارا حق ہے۔
بانی پی ٹی آئی عمران خان نے کہا کہ یہ کبھی بھی پاکستان میں قانون کو بالادست نہیں ہونے دیں گے۔لیکن ہماری تمام تر جدوجہد قانون کی بالادستی کے لیے ہے۔ انہوں نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو سختی سے مخاطب کیا اور کہا کہ میں میڈیا سے بات کروں گا۔ لیکن سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے میڈیا نمائندوں کو کمرہ عدالت سے نکال دیا۔اسی دوران عمران خان نے کہا کہ میرے سب کارکنوں کو پیغام دے دیں کہ اتوار کو سڑکوں پر نکلیں۔
اس سے قبل عمران خان نےکہا تھا کہ جو ظلم کیا جا رہا ہے یہی ہماری انتخابی مہم ہے۔ امیدواروں کے پوسٹرز پر قیدی نمبر 804 لکھا جائے گا۔پچھلی سماعت کے دوران اڈیالہ جیل میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ایران نے جو کیا اس کی مذمت کرتے ہیں، یہ بھی دیکھنا ہے کہ معاملات یہاں تک کیسے پہنچے؟ یہ بڑی خطرناک صورتحال ہے۔شاہ محمود قریشی بطور وزیر خارجہ افغانستان گئے تو انہوں نے مکمل تعاون کا یقین دلایا لیکن بلاول جب وزیر خارجہ تھے تو ایک مرتبہ بھی افغانستان نہیں گئے۔









