چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو کہتے ہیں نہ کھپے، نہ کھپے، میاں صاحب نہ کھپے۔ سیاست کو ذاتی دشمنی میں تبدیل کیا گیا جس کا معیشت کو نقصان ہو رہا ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے معاشی معاہدہ تیار کیا۔ آج سے نہیں تین نسلوں سے غربت کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ سیلاب متاثرین کیلئے سندھ میں بیس لاکھ گھر بنا رہے ہیں۔ ساتھ دیں نفرت اور تقسیم کی سیاست کو ختم کروں گا۔ یقین ہے شکارپور کے عوام مایوس نہیں کریں گے۔ آٹھ فروی کو تیروں کی بارش ہوگی۔
گذشتہ روز خضدار میں جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا تھا کہ میں دہشت گردوں کا مقابلہ اور لاپتہ افراد کے مسئلے کا حل بھی نکال سکتا ہوں۔ میں بلوچ عوام اور وفاق میں دراڑیں ڈالنے کی سازش کو ناکام کروں گا۔
انہوں نے کہا کہ آج ایک بار پھر بلوچستان کی سرزمین پر اپنے بلوچ بھائیوں اور بہنوں کے درمیان کھڑا ہوں۔ کچھ قوتیں پاکستان پیپلزپارٹی کو نشانہ بنائے ہوئےہیں ۔ وہ قوتیں نہیں چاہتیں کہ پیپلزپارٹی بلوچستان میں حکومت بنائے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ وہ قوتیں نہیں چاہتیں کہ پیپلزپارٹی وفاق میں حکومت بنائے۔ وزیراعظم، وزیراعلیٰ بلوچستان جیالہ بنتا ہے تو ان کی سازشیں ناکام ہوں گی۔ وہ جانتے ہیں کہ میری رگوں میں بلوچ کا خون دوڑتا ہے۔جس طرح میں بلوچستان کا دکھ درد سمجھتا ہوں، یہ احساس کسی اور سیاستدان میں نہیں ہے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ بلاول بھٹووہ جانتے ہیں کہ میں بینظیر کا بیٹا ہوں اور بلوچستان کے شہدا کا دکھ سمجھتا ہوں۔ وہ جانتے ہیں میں بلوچستان کے عوام کے مسائل جانتا ہوں۔ وہ جانتے ہیں دہشت گردوں کا مقابلہ اور لاپتہ افراد کے مسئلے کا حل بھی نکال سکتا ہوں۔ میں بلوچ عوام اور وفاق میں دراڑیں ڈالنے کی سازش کو ناکام کروں گا۔









