جمہوریت کا تسلسل انتخابی عمل سے ہے۔ اسی لیے انتخابات ہر ایک کی توجہ کا مرکز ہوتے ہیں۔ 8 فروری کے عام انتخابات میں سوائے ان حلقوں میں جہاں باوجوہ انتخابات موخر ہوئے ہیں ، پاکستان کے عوام اپنا حق رائے دہی استعمال کرکے ، ملک میں جمہوری عمل کو آگے بڑھانے جارہے ہیں۔
ہر انتخابات میں ویسے تو سارےانتخابی حلقے ہی اہم ہوتے ہیں مگر کچھ حلقے ذرائع ابلاغ میں زیادہ ہی اہمیت حاصل کر جاتے ہیں۔ یہ امیدواروں کے پروفائل پر زیادہ تر ہوتا ہے اور کچھ انتخابی حلقے اپنے خاص محل وقع کی وجہ سے بھی جانے جاتے ہیں۔
1:این اے 130 لاہورمیاں نواز شریف مقابلہ ڈاکٹر یاسمین راشد
8 فروری 2024 کے انتخابات سے چند دن پہلے ہم نے دس ایسے حلقے چنے ہیں جو میڈیا میں بہت زیادہ توجہ حاصل کررہے ہیں۔ ان میں این اے 130 لاہور سب سے نمایاں انتخابی حلقہ ہے ۔ اس کی وجہ یہاں سے تین مرتبہ کے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف میدان میں ہیں۔ مسلم لیگ نواز کے قائد اس حلقے سے گذشتہ بیس پچیس سال سے انتخاب لڑتے آرہے ہیں ۔ اور یہ مسلم لیگ نواز کا گڑھ سمجھا جاتا ہے ۔ ان کے مقابلے میں ڈاکٹر یاسمین راشد ہیں جو 2013 ء میں بھی میاں نواز کے خلاف الیکشن لڑچکی ہیں۔ 2017 ء میں جب عدالت نے میاں نواز شریف کو انتخابات کے لیے نااہل قرار دیا تو یہ سیٹ خالی ہوگئی اور یہاں سے ان کی بیگم کلثوم نواز نے انتخاب لڑا اور جیتا۔ یہ مقابلہ بھی ڈاکٹر یاسمین راشد کے ساتھ ہی تھا۔ ڈاکٹر یاسمین راشد 2018 ء کے انتخابات میں مسلم لیگ نواز کے امیدوار وحید عالم خان سے بھی ہار گئیں تھیں۔ مگر پنجاب اسمبلی کی مخصوص نشست پر کامیابی کے بعد صوبائی وزیر صحت رہیں۔ آج کل وہ جیل میں ہیں مگر تحریک انصاف کا ووٹ ان کے ساتھ ہے ۔ اس بار کہا جارہا ہے کہ این 130 پر مقابلہ سخت ہے اور بانی پاکستان تحریک انصاف کا بیانیہ اتنی مقبولیت حاصل کرچکاہے کہ میاں نواز شریف کو اس حلقے میں سخت مشکلات کا سامنا ہے ۔
2:این اے 127 لاہور بلاول بھٹو زرداری مقابلہ عطا اللہ تارڑ
یہ لاہور کا دوسرا اہم ترین حلقہ ہے۔ اور وہ اس لیے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری یہاں سے قومی اسمبلی کا انتخاب لڑرہے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری سے پہلے ان کی والدہ محترمہ بے نظیربھٹو بھی یہاں سے انتخابات جیت چکی ہیں۔ جب کہ ان کے نانا سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو بھی یہاں سے انتخابات جیت چکے ہیں۔ 2002 ء کے بعد پنجاب سے لاہور سے پاکستان پیپلز پارٹی کی نشستین کم سے کم تر ہوتی گئیں ۔2024 ء کے انتخابات میں بلاول بھٹو زرداری کا یہاں سے انتخاب لڑنا ایک طرح سے پیپلز پارٹی کو پھر سے متعارف کروانے کے مترادف ہے۔ این اے 127 میں بلاول بھٹو زرداری کا مقابلہ مسلم لیگ نواز کے عطا اللہ تارڑ اور آزاد امیدوار ملک ظہیر عباس سے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ حلقہ میڈیا میں اہمیت اختیار کرچکاہے۔
3:این اے 64 گجرات قیصرہ الٰہی مقابلہ چودھری سالک حسین
قیصرہ الٰہی اور چودھری سالک حسین دونوں چودھری ظہور الٰہی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں بلکہ پھوپھی اور بھتیجا ہیں۔ قیصرہ الٰہی جو سابق وزیر اعلیٰ چودھری پرویز الٰہی کی بیوی اور چودھری شجاعت حسین کی بہن ہیں، کو پی ٹی آئی کی حمایت حاصل ہے ۔ ان کے مقابلے میں چودھری شجاعت حسین کے بیٹے سالک حسین ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے کہ گجرات کا چودھری خاندان جو اتحاد کی علامت تھا ، اب اس کے افراد ایک دوسرے کے خلاف انتخابات میں شریک ہیں۔ نا صرف یہ بلکہ جائیدادوں حتیٰ کہ ظہور الٰہی پیلیس کا بھی بٹوارہ شروع ہو گیا ہے ۔ سالک حسین پاکستان مسلم لیگ ق کے امیدوار ہیں۔ چہ مگوئیاں جاری ہیں اور قیاس آرائیاں بھی کہ کیا بنے گا اس خاندان کا ، جو وسطیٰ پنجاب کی سیاست میں کئی دہائیوں سے اہم مقام رکھتا تھا۔
4:این اے 119 لاہور مریم نواز مقابلہ شہزاد فاروق
مسلم لیگ نواز کی نائب صدر اور جماعت کی منتظم اعلیٰ مریم نواز شریف کی وجہ سے اہم حلقہ بن جاتا ہے ۔ وہ پہلی بار انتخابی سیاست میں اتری ہیں۔ 2017 ء میں اپنے والد میاں نواز شریف کی نااہلی کے بعد انہوں نے اپنی والدہ کلثوم نواز کی انتخابی مہم چلائی تھی ۔ 2018 ء کے انتخابات سے پہلے ہی وہ نااہل قرار دی گئیں تھیں۔ مریم نواز کے مقابلے میں شہزاد فاروق بھی اچھا خاصہ ووٹ بینک رکھتے ہیں۔ ان کے بھائی میاں عباد فاروق 9 مئی کے واقعات کے الزام میں جیل میں ہیں۔ مریم نواز حلقے میں کافی محنت کررہی ہی ہیں لیکن پاکستان تحریک انصاف کا ووٹ شہزاد فاروق کو ہی جائے گا۔
5:این اے 71 سیالکوٹ خواجہ آصف بمقابلہ ریحانہ ڈار
سابق وزیر خارجہ اور مسلم لیگ نواز کے اہم رہنما خواجہ آصف کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ کئی بار ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوکر حکومت میں اہم عہدوں پر فائز ہوچکے ہیں۔ دوسری طرف ریحانہ امتیاز ڈار ہیں۔ وہ عثمان ڈار کی والدہ ہیں۔ یہ خاتون خانہ ، اب عملی سیاست میں ، حصہ لےرہی ہیں ۔ دلچسپ یہ ہے کہ خواجہ آصف جیسے تجربہ کار اور متعدد بار جیتنے والے سیاستدان کو سخت چیلنج دے رکھا ہے ۔ سیالکوٹ شہر کی سیاست میں ان دنوں ریحانہ امتیاز ڈار کے چرچے ہیں اور خواجہ آصف کو یہ انتخاب جیتنے کے لیے دن رات ایک کرنا پڑرہا ہے۔
6:این اے 151 ملتان علی موسیٰ گیلانی مقابلہ مہربانو قریشی
این اے 151 میں ملتان کے دو سیاسی خاندان آمنے سامنے ہیں۔ شاہ محمود قریشی جنہیں سائفر کیس میں دس سال سزا ہوئی ہے مہربانو قریشی ان کی صاحبزادی ہیں۔ جبکہ علی موسیٰ گیلانی سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے ہیں۔ مہربانو قریشی کو پی ٹی آئی کے ووٹ کے علاوہ اپنے والد کے مریدوں اور ووٹروں کی حمایت حاصل ہے۔ علی موسیٰ گیلانی پیپلز پارٹی کے امیدوار ہونے کے ساتھ ساتھ ایک روحانی گدی سے بھی وابستہ ہیں۔ مقابلہ سخت ہے ، دونوں کے درمیان اور سب کی توجہ کا مرکز بھی ہے ۔ ان دونوں کے درمیان ی دوسرا مقابلہ ہے پہلے علی موسیٰ گیلانی کی جیت ہوئی تھی۔
7:این اے 122 خواجہ سعد رفیق مقابلہ سردار لطیف کھوسہ
این اے 122 لاہور میں مسلم لیگ نواز کے رہنما اور آزاد امیدوار سردار لطیف کھوسہ کے درمیان مقابلہ بھی کا فی دلچسپ اور خبروں کی زینت بنا رہتا ہے ۔ خواجہ سعد رفیق گذشتہ انتخابات میں یہاں سے جیت کر وزارتوں تک پہنچ چکے ہیں۔ انہوں نے ماضی میں تحریک انصاف کے حامد خان کو یہاں سے شکست دی تھی جب کہ ایک بار بانی تحریک انصاف عمران خان سے چند سو ووٹوں سے ہار بھی گئے تھے۔ بعد میں جب بانی پی ٹی آئی نے یہ سیٹ خالی کی تو خواجہ سعد رفیق نے یہ سیٹ جیت لی تھی ۔ خواجہ سعد رفیق کے اپنے سیاسی قد کاٹھ اور سردار لطیف کھوسہ کے ساتھ پی ٹی آئی کے ووٹ بینک کی وجہ سے یہ حلقہ انتہائی اہمیت اختیا ر کرچکا ہے۔ سردار لطیف کھوسہ چند ماہ پہلے ہی تحریک انصاف میں شامل ہوئے ہیں اور اب اس کے جماعت کے مرکزی رہنماوں میں شمار ہوتے ہیں۔ اس سے پہلے وہ پیپلز پارٹی میں تھے اور گورنر پنجاب بھی رہ چکے ہیں۔
8:این اے 44 علی امین گنڈا پور ،مولانا فضل الرحمان اور فیصل کریم کنڈی کا مقابلہ
این اے 44 ڈیرہ اسماعیل خان کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ یہ دو امیدواروں کے درمیان نہیں بلکہ تین امیدواروں کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہے اور تینوں ملکی سیاست میں اہم مقام رکھتے ہیں۔جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان پی ڈی ایم کے سربراہ بھی تھے جس نے 2023 ء میں قومی اسمبلی کے تحلیل ہونے سے پہلے مرکز میں سولہ ماہ تک حکومت کی تھی ۔ علی امین گنڈا پور تحریک انصاف کے دور میں وفاقی وزیر امور کشمیر و شمالی علاقہ جات کے ساتھ ساتھ عمران خان کے قریبی ساتھیوں میں سے بھی تھے ۔ علی امین گنڈا پور مولانا فضل الرحمان سے 2018 ء میں جیت چکے ہیں ۔ اس حلقے سے تیسری بڑی شخصیت پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق ڈپٹی اسپیکر فیصل کریم کنڈی ہیں۔ یہ بھی دو ہزار اٹھ کے انتخابات اسی حلقے سے جیت چکے ہیں ۔ اس بار بھی مقابلہ ان تینوں کے درمیان ہی بتایا جارہاہے ۔
9:این اے 241 کراچی ڈاکٹر فاروق ستار مقابلہ خرم شیر زمان ، فاروق ستار بمقابلہ خرم شیر زمان
اس حلقے میں کیہ کافی دلچسپ معرکہ ہے ۔ دوہزار اٹھارہ کے انتخابات میں این اے 245 سے ڈاکٹر فاروق ستار ، اپنے ہی سابقہ ساتھی ڈاکٹر عامر لیاقت حسین ، جو اسوقت پی ٹی آئی میں آچکے تھے ، کے ہاتھوں ہار گئے تھے۔ ایم کیو ایم جس کے ڈاکٹر فاروق ستار دہائیوں تک اہم لیڈر رہے تھے ، 2018ء میں مختلف دھڑوں بلکہ پارٹیوں میں تقسیم ہوچکی تھی ۔ فاروق ستار نے عملی سیاست کا آغاز بطور میئر کراچی سے کیا تھا ، اس کے بعد وہ متعدد پار ممبر قومی اسمبلی اور وفاقی وزیر بھی رہ چکے ہیں۔ خرم شیر زمان 2018ء میں ممبر سندھ اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ فاروق ستار این اے 244 سے بھی انتخاب لڑرہے ہیں۔ ان کے سیاسی قد کاٹھ اور کانٹے دار مقابلے کے حوالے سے یہ حلقہ بھی توجہ حاصل کررہا ہے۔
10:این اے 56 شیخ رشید بمقابلہ حنیف عباسی
یہ سیاسی حریف راولپنڈی کی سیاست کو بڑا دلچسپ بنا دیتے ہیں۔ حنیف عباسی اور شیخ رشید کا مقابلہ 2018 ء کے انتخابات میں بہت دلچسپ ہوسکتا تھا ، مگرانتخابات حنیف عباسی کو نارکوٹکس کیس میں سزا ہونے کی بنیاد پر ملتوی کردیے گئے ۔ اب نہ صرف شیخ رشید اور حنیف عباسی آمنے سامنے ہیں بلکہ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ شہر یار ریاض بھی میدان میں ہیں۔ شیخ رشید اس وقت جیل میں ہیں۔ اس کے علاوہ بھی بہت سے دلچسپ مقابلے ہیں جنہیں ہم کانٹے دار بھی کہہ سکتے ہیں ۔









