پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف نے آزاد امیدواروں کو ساتھ مل کر حکومت بنانے کی دعوت دیدی ہے۔
لاہور ماڈل ٹائون میں مسلم لیگ ن کے سیکرٹریٹ میں اپنی وکٹری سپیچ کرتے ہوئے میاں محمد نواز شریف کا کہنا تھا کہ ہم ناصرف تمام جماعتوں بلکہ الیکشن 2024ء میں جیتنے والے آزاد امیدواروں کے مینڈیٹ کا بھی احترام کرتے ہیں اور ان کو مل کر ساتھ چلنے کی دعوت دیتے ہیں کیونکہ ملک اب کسی اور انتشار کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
میاں محمد نواز شریف کا کہنا تھا کہ ہم نے اس زخمی پاکستان کو اس مشکل سے نکالنا ہے۔ میں نے اپنے بھائی میاں شہباز شریف سے کہا ہے کہ وہ حکومت کی تشکیل کے سلسلے میں پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین سابق صدر آصف علی زرداری ، جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور ایم کیو ایم کے رہنمائوں سے ملاقات کریں اور ان کو بتائیں کہ ملک کیلئے ہمیں مل کر ساتھ چلنا ہے۔
خبریں ہیں کہ سابق صدر آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو ہنگامی طور پر لاہور پہنچ گئے ہیں۔ آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو لاہور میں پارٹی رہنمائوں سے ملاقات کریں گے۔ پیپلز پارٹی کی قیادت این اے 127 میں انتخابی نتائج چیلنج کرنے پر بھی مشاورت کرے گی۔پیپلز پارٹی کی قیادت پنجاب میں امیدواروں کے الیکشن نتائج تحفظات پر لائحہ عمل طے کریں گے۔ پیپلز پارٹی کی قیادت اور ن لیگ کی قیادت کے درمیان ملاقات کا بھی امکان ہے۔
میاں نواز شریف اپنی وکٹری سپیچ کرنے ماڈل ٹائون پہنچے تو ان پر کارکنوں کی جانب سے پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں۔ کارکنوں کی جانب سے “آئی لو یو، آئی لو یو” کے نعروں کے جواب میں لیگی قائد نے کہا کہ ایک دفعہ نہیں کئی بار کہہ چکا ہوں کہ” آئی لو یو ٹو”۔
ان کا کہنا تھا کہ آج میں آپ کی آنکھوں میں خوشی کی چمک دیکھ رہا ہوں، یہ چمک کہہ رہی ملک کو خوشحال کرنا ہے۔الحمدللہ مسلم لیگ ن سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ہے۔ہمارا فرض ہے کہ ملک کو بھنور سے نکالاجائے۔ ہمارا فرض بنتا ہے کہ ملک کو بھنور سے نکالنے کی تدبیر کریں۔
انہوں نے کہا کہ ہم سب کا احترام کرتے ہیں، میں سب کو دعوت دیتا ہوں کہ زخمی پاکستان کو بھنور سے مل کر نکالیں۔ہم نے کون کون سے منصوبے بنائے، آپ کو معلوم ہے۔ پاکستان کس طرح خوشحال ہو رہاتھا، یہ بھی آپ کو معلوم ہے۔
میاں محمد نواز شریف نے کہا کہ ہمارا ریکارڈ ہے ہم پاکستان کا درد رکھتے ہیں، سب مل کر پاکستان کو بھنور نکالیں۔ بار بار الیکشن نہیں کرائے جا سکتے۔ مسلم لیگ ن کا پاکستان نہیں، سب کا پاکستان ہے۔پاکستان کو مسائل سے نکالنے کیلئے سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ قوم کی امنگوں پر ہمیں پورا اترناچاہئے۔ لڑائی کے موڈ میں جو ہیں، ہم ان کیساتھ لڑنا نہیں چاہتے ۔ پاکستان کی طرف کوئی میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا، ہمارے پاس نیو کلیئر ہے۔ ہمارے پاس پورا مینڈیٹ نہیں ہے، اتحادیوں سے مل کر حکومت بنائیں گے۔ شہباز شریف کو اتحادیوں سے بات کرنے کی ذمہ داری دی ہے۔ آج ہی شہباز شریف آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمن سے بات کریں گے۔
میاں محمد نواز شریف نے کہا کہ ان انتخابات میںمسلم لیگ ن سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ہے۔ ہمارا فرض ہے کہ ملک کو مشکلات سے نکالنے کی تدبیر کریں ۔ ہم سب جماعتوں اور فرد واحد کے مینڈیٹ کا احترام کرتے ہیں۔ ہمارے ساتھ بیٹھیں ۔ ہمارا ایجنڈہ ملک کو مشکلات سے نکالنا ہے۔ آپ کو علم ہے کہ ہم نے پہلے اس ملک کے لئے کیا کچھ کیا، کیسے اس ملک کو مشکلات سے نکالا۔ آپ کو معلوم ہے کہ ہم نے ملک کو معاشی، دفاعی اور معاشرتی لحاظ سے کیا کچھ کیا ہے۔ ہم ملک کا درد رکھتے ہیں، ضروری ہیں کہ دوسری جماعتیں مل بیٹھ کر حکومت بنا کر ملک کو مشکلات سے نکالیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس ملک کو بھنور سے نکالنے کے لئے سیاسی جماعتیں، عدلیہ، افواج سب مل کو اپنا مثبت کردار ادا کریں۔ یہ صرف نواز شریف، اسحاق ڈار یا مسلم لیگ ن کا ملک نہیں بلکہ سب کا ملک ہے۔ یہ نوجوانوں اور بچوں کے مستقبل کا سوال ہے۔ استحکام کے لئے ہمیں 10 سال درکار ہیں۔ جو لڑنے کے موڈ میں ہیں، ہم ان سے لڑنا نہیں چاہتے۔ سب کو مل بیٹھ کو ملک کو بھنور سے نکالنا ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ آج شاید پاکستان ترقی کر چکا ہوتا۔ 1990 ء والا ہمارا مومینٹم قائم رہتا تو آج پاکستان دنیا کی بہت بڑی طاقت ہوتا ۔ آج ملک ایٹمی طاقت کی وجہ سے بہت مضبوط ہے اور کوئی آپ کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا ۔ آپ ہماری ملک کے لئے خدمات دیکھ لیں، میں ان کا کسی سے موازنہ بھی نہیں کرنا چاہتا ۔ ہمیں مکمل مینڈیٹ ملتا تو زیادہ اچھا ہوتا لیکن آج ہمارے پاس اپنے طور پر حکومت بنانے کی اکثریت نہیں ہے، اس لیے ہم دوسروں کو مل کر حکومت بنانے کی دعوت دے رہے ہیں تاکہ ملک کو مشکلات سے نکالیں۔
نواز شریف نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ کسی کو بجلی و گیس کا بل ادا کرتے ہوئے مشکل نہ ہو، ہم چاہتے ہیں کہ لوگوں کو پٹرول، بچوں کی فیس ادا کرتے ہوئے کوئی بوجھ نہ ہو ا نشاء اللہ روشنیاں لوٹیں گی۔ غریب کا چولہا جلے گا۔ قوم کی حالت بدلے گی ۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے تعلقات دنیا اور ہمسایوں کے ساتھ بہتر ہوں۔ میں اپنی جماعت کے لوگوں کو کہتا ہوں کہ آپ نے اب سیاست عبادت سمجھ کر کرنی اور حلقے کے عوام کی خدمت کرنی ہے۔ ہمیں صرف مرکز میں اکثریت نہیں ملی بلکہ ہمیں پنجاب میں بھی اکثریت ملی ہے۔ انشاء اللہ مرکز اور پنجاب میں بھی سب کی خدمت کرینگے ۔
ان کا کہنا تھا کہ یوتھ کے لیے شہباز شریف کی خدمات بہت ہیں، اب بھی انہوں نے لیپ ٹاپ خریدنے کے لئے آرڈر دے دئیے ہیں ۔ ہم ہسپتالوں میں مفت ادویات دینگے۔ شہباز شریف نے پاکستان، قائد اعظم اور نواز شریف زندہ باد کے نعرے لگوائے۔









