الیکشن کمیشن آف پاکستان سے موصول ہونے والے ابتدائی رجحانات کے مطابق عام انتخابات میں آزاد امیدواروں کی بڑی تعداد جیت گئی ہے۔ ان میں سے زیادہ تر کو عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کی حمایت حاصل ہے۔
اب تک 100کے قریب آزاد امیدوار قومی اسمبلی (پاکستانی پارلیمنٹ) کی نشستیں جیت چکے ہیں۔ ان میں تحریک انصاف کے صدر بیرسٹر گوہر علی خان، سینئر نائب صدر لطیف کھوسہ، قومی اسمبلی کے سابق سپیکر اسد قیصر اور پارٹی رکن علی امین گنڈا پور شامل ہیں۔
اس کے علاوہ خیبرپختونخوا اسمبلی میں تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کو بھاری اکثریت حاصل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ پنجاب اسمبلی میں بھی آزاد امیدواروں نے اب تک 100 سے زائد نشستیں جیت کر نواز شریف کی مسلم لیگ کو اچھا مقابلہ دیا ہے۔
یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ الیکشن کمیشن نے عمران خان کی پارٹی تحریک انصاف کے اندر ہونے والے انتخابات کو منسوخ کرتے ہوئے ان کا انتخابی نشان ‘بلا’ واپس لے لیا تھا۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو برقرار رکھا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ پی ٹی آئی کے امیدواروں نے پارٹی نشان پر نہیں بلکہ آزاد حیثیت سے الیکشن لڑا ہے۔
پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کے پاس کیا آپشن ہیں؟
انتخابی قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آزاد امیدواروں کو قانونی طور پر سیاسی جماعتوں میں شمولیت کی ضرورت نہیں ہے۔ یعنی اگر وہ چاہیں تو آزاد حیثیت میں قومی یا صوبائی اسمبلی میں رہ سکتے ہیں۔ تاہم، ان سے اکثر مختلف وجوہات کی بنا پر کسی سیاسی جماعت میں شمولیت کی توقع کی جاتی ہے۔
سیاسی تجزیہ کار رفیع اللہ کاکڑ کے مطابق، ایک آزاد امیدوار کا سیاسی جماعت میں شمولیت کا مقصد اپنا سیاسی کیریئر بنانا، اپنے آپ کو کسی سیاسی نظریے سے جوڑنا یا پارلیمنٹ میں زیادہ فعال کردار ادا کرنا ہو سکتا ہے۔انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ جیتنے کے بعد ان امیدواروں کے پاس تین دن ہوں گے، اس دوران انھیں کسی سیاسی جماعت میں شامل ہونا پڑے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کے قوانین کے مطابق آزاد امیدوار صرف اس پارٹی میں شامل ہو سکتے ہیں جس کا انتخابی نشان انہیں بیلٹ پیپر میں دیا گیا ہو۔
رفیع اللہ کاکڑ کا کہنا ہے کہ ‘پاکستان تحریک انصاف اب فعال نہیں ہے، اس لیے ان آزاد امیدواروں کے لیے یہ فیصلہ کرنا ایک بڑا چیلنج ہوگا کہ وہ کس پارٹی میں شامل ہوں’۔ انتخابات سے قبل تحریک انصاف کے رہنماؤں نے عندیہ دیا تھا کہ وہ کسی بھی سیاسی جماعت میں شامل ہو سکتے ہیں۔
پاکستان الیکشن کمیشن نے ملک میں عام انتخابات کے نتائج کا اعلان کئی گھنٹے کی تاخیر کے بعد شروع کر دیا۔ اب تک کے غیر سرکاری غیر حتمی نتائج کے مطابق خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف، پنجاب میں مسلم لیگ (ن) جبکہ سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کو برتری حاصل ہے۔ خیبرپختونخوا میں آزاد امیدواروں کی حیران کن کامیابی کے بعد انہیں دو بڑی جماعتوں کی جانب سے شمولیت کی آفرز مل رہی ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے ان امیدواروں کو پیپلز پارٹی میں شمولیت کی دعوت دی ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے یہ بھی کہا کہ انہیں اپنی پارٹی میں آزاد امیدواروں کو شامل کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اس معاملے پر رفیع اللہ کاکڑ نے کہا کہ دو چیزیں ہو سکتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ان آزاد امیدواروں کو پی ٹی آئی میں شامل ہونے کی اجازت دی جانی چاہیے، دوسری بات یہ کہ اگر وہ چاہیں تو پیپلز پارٹی اور کسی چھوٹی جماعت کے ساتھ مل کر حکومت بنا سکتے ہیں‘۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایک بڑے انتخابی اپ سیٹ میں سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف قومی اسمبلی کے ایک حلقے میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار سے ہار گئے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے مطابق قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 15 مانسہرہ میں شہزاد محمد غطاس خان نے نواز شریف کو بڑے مارجن سے شکست دی ہے۔ نواز شریف لاہور کے قومی اسمبلی کے حلقہ 130 سے مسلم لیگ کے امیدوار تھے جہاں سے وہ کامیاب ہوئے۔لیکن اس کو بھی چیلنج کر دیا گیا ہے۔
جب رفیع اللہ کاکڑ سے پوچھا گیا کہ کیا آزاد امیدوار اپنا وزیراعظم خود منتخب کرسکتے ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ ایسا کرسکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر 266 رکنی قومی اسمبلی میں ان کے پاس 134 نشستیں ہیں تو وہ یہ کام بالکل کر سکتے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ آزاد امیدواروں کے لیے اپنا وزیر اعظم خود منتخب کرنا عملی نہیں سمجھا جاتا۔ لیکن قانون میں اس پر کوئی پابندی نہیں ہے۔









