اسلام آباد: (91 نیوز) ذرائع کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کی سینئر قیادت نے ڈھائی ڈھائی سال کیلئے وزیراعظم بنانے کا فارمولہ مسترد کر دیا ہے۔
تفصیل کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی (سی ای سی)کا اجلاس بلاول بھٹو زرداری اور آصف زرداری کے زیر صدارت شروع ہو چکا ہے۔ اجلاس میں پارٹی قیادت پہلے سے نشستوں پر موجود تھی۔ اسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف ، سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی ، سعید غنی ، شیری رحمان ، نیئر بخاری و دیگر ارکان اجلاس میں شریک ہیں۔
سی ای سی اجلاس میں الیکشن کے بعد کی صورتحال پر غور کیا جا رہا ہے۔ اجلاس میں پارٹی قیادت مسلم لیگ ن سے ملاقاتوں پر اعتماد میں لے گی جبکہ سی ای سی ارکان اجلاس میں اتحادی حکومت میں شمولیت سے متعلق تجاویز پیش کریں گے ۔
سنو نیوز ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں انتخابات کے بعد کی صورتحال ، بلاول بھٹو کی بطور وزیراعظم نامزدگی پر غورخوض کیا جا رہا ہے۔ پارٹی قیادت نے ن لیگ کی تجاویز سی ای سی ارکان کے سامنے رکھتے ہوئےبلاول بھٹو کو اپوزیشن لیڈر بننے کی تجویز دیدی ہے۔
اجلاس کے دوران سینئر رہنمائوں کا موقف تھا کہ مضبوط حکومت بنتی ہے تو بلاول بھٹو کو وزیراعظم بنایا جائے۔ پارٹی قیادت نے ن لیگ کی تمام تر تجاویز سی ای سی ارکان کے سامنے رکھ دی ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ ڈھائی ڈھائی سال کیلئے وزیراعظم بنائے جانے کا فارمولہ مسترد کر دیا گیا ہے۔پیپلز پارٹی کے سینئر اراکین کا کہنا ہے کہ حکومت سازی کیلئے جلد بازی کا مظاہرہ نہ کیا جائے۔
اس سے قبل مرکزی سیکریٹری اطلاعات فیصل کریم کنڈی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ میری تجویز تھی آج سی ای سی میں معاملہ زیر غور آئے گا۔ سی ای سی جو فیصلہ کرے گی وہی ہوگا۔ الیکشن کے حوالے سے شکایات موصول ہوئی ہیں ۔ پیپلز پارٹی نے سب سے پہلے اپنے وزیراعظم کے امیدوار کا نام کا اعلان کر دیا تھا ۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ اپنے منشور پر عملدرآمد کے لئے بلاول بھٹو کا وزیر اعظم بننا ضروری ہے ۔ ی یہ میری تجویز ہے ۔ بلاول وزیر اعظم نہیں بنتے تو اپوزیشن نشستوں میں بیٹھنا بہتر ہے۔ ہمیں اپوزیشن میں بیٹھ کر عوام کی خدمت کرنی چاہیے۔ جس کے نمبر زیادہ ہوں گے اسی جماعت کا اپوزیشن لیڈرہو گا۔
پاور شیئرنگ کا دو نکاتی فارمولا:
اس سے قبل خبریں تھیں کہ پنجاب اور وفاق میں حکومت سازی کے معاملے پر مسلم لیگ (ن) ، پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور جے یو آئی( ف) کے مابین سیاسی اتحاد پر اتفاق ہو گیا ہے۔ مرکز کیلئے پاور شیئرنگ کا دو نکاتی فارمولا تیار کر لیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پہلے مرحلے میں اتحاد کےبعد زیادہ سیٹوں والی ایک پارٹی کا وزیراعظم تین سال کےلئے ہوگا۔ دوسرے مرحلے میں دو سال کےلئے دوسری پارٹی کا وزیراعظم ہوگا۔
پیپلز پارٹی نے وزیراعلیٰ پنجاب کیلئے مریم نواز شریف کی حمایت کی یقین دہانی کرا دی ہے۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان بھی اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔ بلاول بھٹو ن لیگی تجاویز پرآج اہم پارٹی رہنماؤں سے مشاورت کرینگے۔ پی پی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس شام سے پہلے اسلام آباد میں ہوگا.
دوسری جانب بڑی سیاسی پارٹیوں کے بڑوں کی وفاقی کابینہ کے علاوہ بھی کئی بڑے عہدوں پر نظر ہے ۔ حکومت سازی کے بعد صدرِ مملکت کے علاوہ چیئرمین سینیٹ کا انتخاب بھی ہونا ہے ۔ یہ عہدہ اس لیے بھی بڑا اہم ہے کہ صدر پاکستان کی غیر موجودگی میں چیئرمین سینیٹ ہی قائمقام صدر ہوتے ہیں ۔
اسپیکر قومی اسمبلی اور اپوزیشن لیڈر کے عہدے بھی نئی تقرریوں کےمنتظر ہیں ۔ مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی اس بار پھرایوانِ زیریں اور ایوان بالا میں قائد حزب اختلاف کا عہدہ حکومت فرینڈلی بنانے پر غور کر رہی ہیں۔
مولانا فضل الرحمان بھی اہم پوزیشن کے لیے تگ و دو میں لگے ہوئے ہیں ۔ چلیں صدر کا عہدہ نہ سہی ، عہدے اور بھی بہت ہیں عزت پانے کو ۔ ن لیگ اور پی پی سے پرانی دوستی کے باعث اس بار کوئی اسپیکر بنانا تو بنتا ہے ۔
الیکشن 2024ءمیں ایم کیو ایم کئی برسوں بعد ایک بار پھر کراچی میں اپنی حیثیت بحال کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے ۔ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے مسلم لیگ (ن) سے غیرمشروط طور پر ہاتھ تو ملا لیا ہے لیکن کچھ باتیں تو اَن کہی بھی ہوتی ہیں ۔ اہم وزارتوں کے حصول کے لیےبیک ڈور ڈپلومیسی شروع ہو گئی ہے ۔
نئی حکومت بنانے کے لیےبڑے چودھری صاحب بھی بڑے میاں صاحب کے ساتھ ہیں ۔ سربراہ ق لیگ چودھری شجاعت حسین اورقائد ن لیگ میاں نواز شریف کی ملاقات میں اہم امور طے ہونگے ۔ حکومت سازی کے بعد نئے گورنرز کی تقرریوں کے علاوہ نئے سینیٹرز کا انتخاب بھی ہونا ہے ۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کو غیر حتمی نتائج موصول ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔ قومی اسمبلی کے 265 میں سے 255 کے نتائج موصول، 1 حلقہ کا نتیجہ روک لیا گیا، 9 حلقوں کے نتائج آنا باقی ہیں۔
قومی اسمبلی میں کامیاب ہونے والے آزاد امیدواروں کی تعداد 100 ہوگئی ہے۔ قومی اسمبلی میں ن لیگ اب تک 73 نشستیں حاصل کر پائی ہے، پیپلزپارٹی کے 54 امیدوار کامیاب قرار پائے۔ ایم کیوایم کے 17 امیدوار بھی قومی اسمبلی میں پہنچ گئے ہیں۔ مسلم لیگ ق اور جے یو آئی کے تین 3 ارکان قومی اسمبلی میں پہنچ پائے ہیں۔ آئی پی پی کے دو امیدوار الیکشن جیت پائے جبکہ ایم ڈبلیوایم، بی این پی اور مسلم لیگ ضیاء نےقومی اسمبلی میں ایک ایک نشست حاصل کی ہے۔
آزاد امیدوار قاتلانہ حملے میں جاں بحق:
قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 57 اور صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی 19 کے آزاد امیدوار چودھری عدنا ن قاتلانہ حملے میں جاں بحق ہو گئے ہیں۔
چودھری عدنان پر نامعلوم افراد نے جھنڈا چیچی کے قریب فائرنگ کر دی تھی۔ان کو شدید زخمی حالت میں بینظیر بھٹو ہسپتال لے جایا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکے اور دم توڑ گئے۔
چودھری عدنان 2018 ء میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر ایم پی اے منتخب ہوئے تھے ، تاہم سانحہ 9 مئی کے بعد انہوں نے آزاد حیثیت اختیار کر رکھی تھی۔ حالیہ انتخابات میں چودھری عدنان شکست سے دوچار ہوئے تھے۔
پولیس کے اعلیٰ حکام نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے ملزموں کی گرفتاری کیلئے شہر کے خارجی وداخلی راستوں کی ناکہ بندی کر دی ہے۔
الیکشن کمیشن نے 29 حلقوں کے نتائج روک لیے:
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 13 قومی اور 16 صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں پر حتمی نتائج جاری کرنے سے روکتے ہوئےمتعلقہ آر اوز سے رپورٹ طلب کر لی ہے ۔
اس معاملے پر بات کرتے ہوئے ممبر کمیشن نثار درانی نے کہا کہ جو جیت گیا وہ جشن منا رہا ہے اور جو ہار گیا وہ دھاندلی کے الزامات لگا رہا ہے، ایسا رویہ کب تک چلے گا؟ ہار اور جیت جمہوریت کا حسن ہے۔ الیکشن کمیشن میں انتخابی عذرداریوں پر سماعت جاری ہے۔ سائلین کی سہولت کےلئے چار کاؤنٹرز قائم کئے گئے ہیں۔
تفصیل کے مطابق الیکشن کمیشن کی جانب سے این اے 43 اور پی ایس 18 کی انتخابی عذاداریوں سے متعلق کیس پر سماعت کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ کرلیا گیا ہے جبکہ این اے 58، این اے 71 اور این اے 117 کے ریٹرنگ افسران سے رپورٹ طلب کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن میں مبینہ تھپڑ مارنے کے کیس میں فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ میں نے تھپڑ نہیں مارا۔ ممبر کمیشن نے کہا کہ میڈیم کی ویڈیو چلادیں، جس پر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ اس کیساتھ میں میری دی ہوئی ویڈیو بھی چلا دیں۔
ممبر کمیشن نے ریمارکس دئیے کہ اگر آپ کی کوئی شکایات تھیں تو وہ درج کراتیں۔ پولیس حکام نے موقف اختیار کیا کہ تمام پولنگ اسٹیشنز پر پرامن پولنگ ہوئی ، سوائے متعلقہ پولنگ اسٹیشن کے۔ الیکشن کمیشن نے پولیس اہلکار کو تھپڑ مارنے پر فردوس عاشق اعوان سے 15فروری تک تحریری جواب طلب کرلیا گیا ہے۔
دوسری جانب الیکشن کمیشن نے انتخابی عذرداریوں پر سماعت کیلئے دو بنچ تشکیل دیکر سماعتیں کی۔ الیکشن کمیشن نے حلقہ راولپنڈی کے تین قومی اسمبلی کی نشتیں این اے 52 ،این اے 53 ،این اے 56 ، این اے 57 ، این اے58 چکوال، این اے 59تلہ گنگ ، این اے 60 جہلم اور این اے 69 منڈی بہاءالدین کے حتمی نتائج جاری کرنے سے روک دیا ہے۔ حلقہ این اے 87خوشاب ، این اے 106 ٹوبہ، این اے 126 لاہور، این اے 127لاہور، حلقہ این اے 253 نشستوں پر حتمی نتائج جاری کرنے سے بھی روک دیا۔
ان کے علاوہ پنجاب اسمبلی کی پی پی 4 اٹک، پی پی 6 مری ، راولپنڈی کی پی پی 7، پی پی 12،پی پی 15،پی پی 17 ، پی پی 33 گجرات، پی پی 43 منڈی بہاءالدین،پی پی 53 سیالکوٹ، پی پی 121 ٹوبہ ٹیک سنگھ، پی پی 126 جھنگ، پی پی 128 جھنگ، پی پی 133 ننکانہ صاحب اور پی پی 279 لیہ کی سیٹوں پر حتمی نتائج جاری کرنے سے روک دیا گیا ہے۔
الیکشن کمیشن نے پی بی 14 نصیر آباد،پی بی 9،پی بی 44 کوئٹہ کا حتمی نتیجہ جاری کرنے سے روک دیا، تحریک انصاف کے این اے 58 میں پی ٹی حمایت یافتہ امیدوار ایاز امیر کی درخواست پر آر او کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے۔
جبکہ این اے 71 اور این اے 117 سے متعلق آر اوز سے جواب طلب کرلیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے پی ایس 19 گھوٹکی میں مسلح افراد کی جانب سے ایک پولنگ اسٹیشن کا سامان چھیننے سے متعلق درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
این اے 43 ٹانک میں 6 پولنگ اسٹیشنز پر کوئی ووٹ نہ ڈلنے کے کیس کی سماعت الیکشن کمیشن میں ہوئی۔ آر او نے بتایا کہ امن و امان کے حالات خراب ہونے کی وجہ سے پولنگ نہیں ہوسکی،کچھ پولنگ اسٹیشنز پر عملہ بھی نہیں پہنچ سکا، فائرنگ سے پریزائڈنگ افسر زخمی بھی ہوا الیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔
امیدواروں کا ایک سے زائد نشستیں چھوڑنے کا فیصلہ:
قومی اور صوبائی اسمبلی میں متعدد امیدوار ایک سے زائد نشستوں پر کامیاب ہوئے۔ دوہری نشستوں پر جیتنے والے امیدواروں کی جانب سے سیٹیں چھوڑنے کے بعد 16سے زائد نشستیں خالی ہوں گی۔ مسلم لیگ ن کی جانب سے آٹھ نشستیں خالی کی جائیں گی جن پر ضمنی انتخابات ہوں گے۔
پیپلز پارٹی تین، پی ٹی آئی دو، ق لیگ، استحکام پاکستان پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی کی جانب ایک ایک نشست خالی کی جائے گی۔ جن نشستوں پر ضمنی انتخابات ہوں گے ان میں مریم نواز، بلاول بھٹو، عبدالعلیم خان اور علی امین گنڈا پور کی نشستیں بھی شامل ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان کا سیٹ چھوڑنے کا اعلان:
امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان نے پی ایس ایک سو انتیس کی سیٹ چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی کو ایم کیو ایم پاکستان کے حوالے کردیا گیا ہے۔ متحدہ اگر جائز طریقے سے سیٹیں جیت جاتی تو وہ قبول کر لیتے، ان کا سیٹ چھوڑنا الیکشن کمیشن کے منہ پر طمانچہ ہے۔
حافظ نعیم الرحمان سیٹ جیتے ہی نہیں: ایم کیو ایم
ایم کیوایم کے رہنما مصطفیٰ کمال کا کہناہے کہ حافظ نعیم الرحمان سیٹ جیتے ہی نہیں، انہوں نے اپنی عزت بچائی ہے۔ پی ایس 129سےایم کیوایم کا امیدوار جیتا ہے۔ یہ لوگ ایک سال بلدیاتی حکومت میں کچھ نہیں کرسکے۔ بلدیاتی حکومت ہمارے بائیکاٹ کے صلے میں ملی تھی۔ بہت جلد ان سے بلدیاتی حکومت بھی چھینیں گے۔
شہباز شریف سے آزادارکان اسمبلی کی ملاقات:
میاں محمد شہباز شریف سے آزاد منتخب ہونے والے پانچ ارکان اسمبلی نے ملاقات کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کا اعلان کر دیا ہے۔ این اے 189 سے سردار شمشیر مزاری، پی پی 195 سے
عمران اکرم، پی پی 240 سے سہیل خان، پی پی 297 سے خضر حسین مزاری اور پی پی 249 سے صاحبزادہ محمد گزین عباسی ملاقات کرنے والوں میں شامل تھے ۔
تمام ارکان نے قائد نواز شریف پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کا اعلان کیا۔ شہباز شریف نے آزاد ارکان کا پارٹی میں شمولیت کا خیر مقدم اور مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے جذبے کو سراہتا ہوں۔ آپ پاکستان کو سنوارنے اور عوام کو مشکلات سے نجات دلانے والے قافلے کا حصہ بنے ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کا اولین ایجنڈا ملک اور قوم کی معاشی خوشحالی ہے۔ پہلے سے بھی بڑھ کر عوام کی خدمت کریں گے۔ نومنتخب ارکان اسمبلی نے ن لیگ کی ملک وقوم کے لئے خدمات اور جذبے کو سراہا اور کہا کہ پاکستان کو نواز شریف کے پرخلوص وژن، ترقی کے ایجنڈے اور خدمت کے تجربے کی ضرورت ہے۔
سینتیس حلقوں کے حتمی نتائج روک دئیے گئے:
الیکشن کمیشن نے قومی و صوبائی اسمبلیوں کے سینتیس حلقوں کے حتمی نتائج روک دئیے۔ الیکشن کمیشن نےپی پی 283 لیہ، پی پی 164لاہوراورپی پی 46 سیالکوٹ، این اے 58 چکوال، این اے 71 سیالکوٹ ، این اے 51 راولپنڈی اور این اے 117 لاہور ، پی پی 22 چکوال، پی پی 49 سیالکوٹ اور پی پی 14 راولپنڈی سمیت دیگر کے نتائج کو روک دیا ہے۔
پولیس اہلکار کو تھپڑ ، فردوس عاشق اعوان نے معافی مانگ لی:
آئی پی پی رہنما فردوس عاشق اعوان نے پولیس اہلکار کو تھپڑ مارنے پر معافی مانگ لی ہے۔ الیکشن کمیشن میں جسٹس (ر)اکرم اللہ کی سربراہی میں دو رکنی کمیشن نے سماعت کی۔ دوران سماعت فردوس عاشق اعوان نے بتایا،، جب ووٹ کاسٹ کرنے گئی تو اہلکار ٹھپے لگا رہا تھا۔
این اے 130 : نواز شریف کی کامیابی ہائیکورٹ میں چیلنج:
لاہور سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 130 سے مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف کی کامیابی کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا گیا ہے۔ آزاد امیدوار اشتیاق چودھری کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ میں دائردرخواست میں الیکشن کمیشن آف پاکستان ، ریٹرننگ افسر اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے فارم 45 کے نتائج ہمارے پاس موجود ہیں۔ اس فارم کے مطابق نواز شریف حلقہ این اے 130 سے ہار چکے ہیں۔ لیگی قائد نے مبینہ ملی بھگت سے فارم 47 میں خود کو کامیاب قرار دیا ۔درخواست گزاراشتیاق چودھری نے عدالت عالیہ سے استدعا کی کہ فارم 45 کے مطابق نتائج جاری کرنے اور الیکشن کمیشن کو حتمی نتیجہ جاری کرنے سے روکنے کا حکم دے۔ درخواست میں استدعا کی گئی کہ لاہور ہائیکورٹ این اے 130 میں دوبارہ گنتی کا حکم دے کر فارم 47 کا نتیجہ کالعدم قرار دے۔ خیال رہے کہ حلقہ این اے 130 پر مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف 171024 ووٹوں کیساتھ کامیاب قرار پائے تھے جبکہ آزاد امیدوار ڈاکٹر یاسمین راشد 115043 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہیں۔دوسری جانب مسلم لیگ ن کی چیف آرگنائزر مریم نواز شریف نے لاہور شہر سے قومی اسمبلی کی سیٹ جیت لی ہے۔این اے 119 کے تمام 338 پولنگ اسٹیشنز کے غیرحتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم ليگ (ن )کی مریم نواز 83855 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائیں ، ان کے مدمقابل آزاد امیدوار شہزاد فاروق 68376 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔









