231

الیکشن میں مبینہ دھاندلی، پی ٹی آئی اور جے یو آئی ایک ہوگئے

الیکشن 2024ء میں مبینہ دھاندلی کیخلاف پاکستان تحریک انصاف اور جمعیت علمائے اسلام (ف) ایک ہو گئے ہیں۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کیلئے پی ٹی آئی وفد کی قیادت اسد قیصر نے کی جبکہ دیگر رہنمائوں میں عامر ڈوگر، بیرسٹر سیف اور فضل احمد شامل تھے۔ جے یو آئی قائد نے پی ٹی آئی وفد کا خیر مقدم کیا۔

اس اہم سیاسی ملاقات میں حالیہ انتخابات اور سیاسی صورتحال پر بات چیت کی گئی۔ ملاقات میں الیکشن 2024ء میں مبینہ دھاندلی سمیت دیگر تحفظات پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ پی ٹی آئی وفد نے بانی چیئرمین عمران خان کا پیغام مولانا فضل الرحمن تک پہنچایا اور انتخابات میں مبینہ دھاندلی اور اپوزیشن میں ساتھ چلنے کی دعوت۔ وفد اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان ملکی سیاسی صورتحال پر بھی تبادلہ خیالات کیا۔

سنو نیوز ذرائع کے مطابق ملاقات میں پی ٹی آئی وفد نے حالیہ دھاندلی پر تشویش کا اظہار کیا۔ اسد قیصر کا کہنا تھا کہ ملک کی تاریخ میں بدترین دھاندلی ہوئی ہے۔جبکہ مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ ہمیں بھی اس انتخابات پر تحفظات ہے۔

اسد قیصر نے کہا کہ حکومت بنی یا اپوزیشن ہم ساتھ چلیں گے۔ عمر ایوب خان ہمارے وزیراعظم کے امیدوار ہیں، امید ہے آپ تعاون کریں گے۔ اپوزیشن بھی مل کر ساتھ کریں گے۔ اسٹیبلشمنٹ کا سیاست سے کردار ختم کرنا ہوگا۔ مولانا فضل الرحمن نے پارٹی کی جنرل کونسل سے مشاورت تک وقت مانگ لیا۔

پی ٹی آئی وفد کیساتھ ملاقات کے بعد میڈیا کو بریفنگ میںجے یو آئی رہنما حافظ حمد اللہ نے کہا کہ عام انتخابات کے نتیجے کی صورت میں ایک منظر نامہ نظر آرہا ہے۔ پی ٹی آئی کی طرف سے اسد قیصر کی قیادت میں وفد تشریف لایا۔ تشریف لانے سے پہلے رابطہ ہوا اور ملاقات کی بات ہوئی۔

حافظ حمد اللہ نے کہا کہ ہم نے پی ٹی آئی کو خوش آمدید کہا اور موجودہ صورتحال میں خوش آئند قرار دیا۔ مولانا فضل الرحمن نے پریس کانفرنس میں الیکشن کو دھاندلی زدہ قرار دیا،جبکہ پی ٹی آئی نے بھی یہی مدعا رکھا اور کہا کہ اس الیکشن کو شفاف اور غیر جانبدارانہ نہیں کہہ سکتے ۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ یہ دھاندلی زدہ الیکشن ہیں۔آگے کیا ہوگا اس کو وقت پر چھوڑ دیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں