پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان نے سائفر کیس، توشہ خانہ کیس اور عدت نکاح کیس کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق بانی پی ٹی آئی عمران خان نے اپنے تین کیسز میں سزاؤں کے خلاف اپیلوں کی تیاری مکمل کر لی ہے۔ وہ کل اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیلیں دائر کریں گے۔ بانی پی ٹی آئی کو تینوں کیسز قید اور جرمانے کی سزا سنائی گئی ہے۔ عمران خان کو سائفر کیس میں 10 سال قید، توشہ خانہ کیس میں 14 سال قید اور غیر شرعی نکاح کیس میں 7 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
سائفر کیس:
30 جنوری 2024ء کو اسلام آباد کی خصوصی عدالت کے جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے سائفر کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو 10، 10 سال قید کی سزا سنا ئی تھی۔ سیکرٹ ایکٹ کے تحت قائم خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے مقدمے کی سماعت کے بعد مختصر فیصلہ سناتے ہوئے بانی پی ٹی آئی عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو دس، دس سال قید کی سزا کا فیصلہ دیا۔ سزا سنائے جانے کے وقت عمران خان اور شاہ محمود قریشی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔
جب عدالت نے عمران خان کا 342 کا بیان ریکارڈ کرنے کے لیے روسٹرم پر بلایا تو ان سے کہا کہ اگر وہ عدالت کو کچھ بتانا چاہتے ہیں تو عدالت کو بتا دیں۔ جس پر عمران خان نے کہا کہ میں عدالت کو کچھ بتانا چاہتا ہوں۔ عدالت نے عمران خان سے پوچھا کہ کیا سائفر آپ کے پاس ہے تو انھوں نے جواب دیا کہ سائفر میرے پاس نہیں بلکہ میرے دفتر میں تھا اور وہاں کی سیکیورٹی کی ذمہ داری میری نہیں بلکہ وہاں پر ملٹری سیکرٹری اور پرنسپل سیکرٹری بھی ہوتے ہیں۔جب عمران خان روسٹرم سے نیچے اترنے لگے جس کے بعد عدالت نے شاہ محمود قریشی کو بھی روسٹرم پر بلا لیا اور دونوں کو روسٹرم پر ہی سزا سنا دی اور مزید جرح نہیں ہوئی۔ جیل حکام کے مطابق خصوصی عدالت کے جج مختصر حکم نامہ سنا کر اٹھ کر چلے گئے۔
توشہ خانہ کیس:
اس سے اگلے ہی روز یعنی 31 جنوری 2024ء کو اسلام آباد کی احتساب عدالت نے توشہ خانہ کیس میں بانی تحریک انصاف و سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 14، 14 سال قید کی سزا سنا دی۔ عدالت نے عمران خان کو 10 سال کے لیے نااہل بھی قرار دے دیا تھا۔ اڈیالہ جیل میں توشہ خانہ کیس کی سماعت کے دوران بانی پی ٹی آئی عمران خان کو عدالت پیش کیا گیا جہاں سابق وزیراعظم نے حاضری لگائی جبکہ بشریٰ بی بی عدالت پیش نہ ہوئیں۔ عدالت نے عمران خان سے استفسار کیا کہ آپ کا 342 کا بیان کہاں ہے؟ جس پر بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ میرا بیان میرے کمرے میں ہے، مجھے تو صرف حاضری کیلئے بلایا گیا تھا۔ جس پر عدالت نے کہا کہ آپ فوری طور اپنا بیان جمع کرادیں اور عدالتی وقت خراب نہ کریں۔
بانی پی ٹی آئی عمران خان عدالت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو کیا جلدی ہے، کل بھی جلدی میں سزا سنا دی گئی، وکلاء ابھی آئے نہیں، وکلاء آئیں گے تو ان کو دکھا کر جمع کراؤں گا، میں صرف حاضری کیلئے آیا ہوں جس کے بعد سابق وزیراعظم کمرہ عدالت سے واپس چلے گئے۔ جج نے عمران خان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جائیں فوری اپنا بیان لائیں۔ جس پر بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ لیکن بیان میں کچھ چیزوں کو ردوبدل کرنا ہے۔ جج نے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کو بانی پی ٹی آئی کے ساتھ جانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ آپ بیان لے آئیں کمپیوٹر پر ٹائپ کریں، بعد میں ردوبدل بھی کرلیں گے۔
ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ نے عدالت کو بتایا کہ بانی پی ٹی آئی واپس نہیں آئے۔ جس پر جج نے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ سے سوال کیا کہ کیوں نہیں آرہے؟ جس پر ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ نے کہا کہ وہ کہہ رہے ہیں میرے وکلاء جب تک نہیں آتے میں عدالت نہیں آؤں گا۔ جج نے عدالتی اہلکار کو ہدایت کہ وہ کیس ٹائٹل کی آواز لگائیں۔ عدالتی اہلکار برآمدہ میں گیا اور آواز لگائی سرکاری بنام عمران خان، بشریٰ بی بی،لیکن پکار کے باوجود بانی پی ٹی آئی عدالت نہیں آئے جس کے بعد عدالت نے فیصلہ سنا دیا۔
یاد رہے گذشتہ سال 5 اگست کو اسلام آباد کی عدالت نے عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں کرپشن کا مجرم قرار دیتے ہوئے 3 سال قید کی سزا سنائی تھی، فیصلہ آنے کے فوراً بعد انہیں پنجاب پولیس نے لاہور میں واقع زمان پارک میں ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کر لیا تھا۔
بعد ازاں 29 اگست کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ کیس میں گرفتاری کے بعد اٹک جیل میں قید عمران خان کی سزا معطل کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دے دیا تھا۔ تاہم خصوصی عدالت نے سائفر کیس میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت سابق وزیر اعظم کو جیل میں ہی قید رکھنے کا حکم دے دیا تھا۔
6 دسمبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کی توشہ خانہ ریفرنس میں نااہلی کے خلاف اپیل واپس لینے کی درخواست مسترد کر دی تھی۔الیکشن کمیشن آف پاکستان نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو نااہل قرار دینے کا فیصلہ سنانے کے بعد کے ان کے خلاف فوجداری کارروائی کا ریفرنس عدالت کو بھیج دیا تھا، جس میں عدم پیشی کے باعث ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے تھے۔سابق حکمران اتحاد پی ڈی ایم کے 5 ارکان قومی اسمبلی کی درخواست پر اسپیکر قومی اسمبلی نے سابق وزیراعظم عمران خان کی نااہلی کے لیے توشہ خانہ ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھجوایا تھا۔ ریفرنس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ عمران خان نے توشہ خانہ سے حاصل ہونے والے تحائف فروخت کرکے جو آمدن حاصل کی اسے اثاثوں میں ظاہر نہیں کیا۔ آئین کے آرٹیکل 63 کے تحت دائر کیے جانے والے ریفرنس میں آرٹیکل 62 (ون) (ایف) کے تحت عمران خان کی نااہلی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
کیس کی سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے مؤقف اپنایا تھا کہ 62 (ون) (ایف) کے تحت نااہلی صرف عدلیہ کا اختیار ہے اور سپریم کورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن کوئی عدالت نہیں۔ عمران خان نے توشہ خانہ ریفرنس کے سلسلے میں 7 ستمبر کو الیکشن کمیشن میں اپنا تحریری جواب جمع کرایا تھا، جواب کے مطابق یکم اگست 2018 ء سے 31 دسمبر 2021 ء کے دوران وزیر اعظم اور ان کی اہلیہ کو 58 تحائف دیے گئے۔ بتایا گیا کہ یہ تحائف زیادہ تر پھولوں کے گلدان، میز پوش، آرائشی سامان، دیوار کی آرائش کا سامان، چھوٹے قالین، بٹوے، پرفیوم، تسبیح، خطاطی، فریم، پیپر ویٹ اور پین ہولڈرز پر مشتمل تھے البتہ ان میں گھڑی، قلم، کفلنگز، انگوٹھی، بریسلیٹ/لاکٹس بھی شامل تھے۔
جواب میں بتایا کہ ان سب تحائف میں صرف 14 چیزیں ایسی تھیں جن کی مالیت 30 ہزار روپے سے زائد تھی جسے انہوں نے باقاعدہ طریقہ کار کے تحت رقم کی ادا کر کے خریدا۔ اپنے جواب میں عمران خان نے اعتراف کیا تھا کہ انہوں نے بطور وزیر اعظم اپنے دور میں 4 تحائف فروخت کیے تھے۔
سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ انہوں نے 2 کروڑ 16 لاکھ روپے کی ادائیگی کے بعد سرکاری خزانے سے تحائف کی فروخت سے تقریباً 5 کروڑ 80 لاکھ روپے حاصل کیے، ان تحائف میں ایک گھڑی، کفلنگز، ایک مہنگا قلم اور ایک انگوٹھی شامل تھی جبکہ دیگر 3 تحائف میں 4 رولیکس گھڑیاں شامل تھیں۔
چنانچہ 21 اکتوبر 2022 ء کو الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کے خلاف دائر کردہ توشہ خانہ ریفرنس کا فیصلہ سناتے ہوئے انہیں نااہل قرار دے دیا تھا۔
الیکشن کمیشن نے عمران خان کو آئین پاکستان کے آرٹیکل 63 کی شق ’ایک‘ کی ذیلی شق ’پی‘ کے تحت نااہل کیا جبکہ آئین کے مذکورہ آرٹیکل کے تحت ان کی نااہلی کی مدت موجودہ اسمبلی کے اختتام تک برقرار رہے گی۔ فیصلے کے تحت عمران خان کو قومی اسمبلی سے ڈی سیٹ بھی کردیا گیا تھا۔
غیر شرعی نکاح کیس:
بعد ازاں 3 فروری 2024ء کو سول جج قدرت اللہ نے اڈیالہ جیل میں غیر شرعی نکاح کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے بانی تحریک انصاف و سابق وزیراعظم عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 7، 7 سال قید کی سزا سنا دی تھی۔ عدالت نے دونوں مجرموں کو 5،5 لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی سُنائی۔
اس سے صرف ایک روز قبل جج قدرت اللہ نے اڈیالہ جیل راولپنڈی میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کے غیر شرعی نکاح کیس کی 14 گھنٹے تک سماعت کی۔ بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجا اور عثمان ریاض گل ایڈوکیٹ عدالت پیش ہوئے اور گواہان کے بیانات پر جرح کی۔ بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی نے 342 کا بیان قلمبند کروایا اور بشریٰ بی بی نے اپنے بیان میں چودہ نومبر 2017ء کا طلاق نامہ من گھڑت قرار دے دیا۔
بشریٰ بی بی نے بیان دیا کہ خاور مانیکا نے مجھے زبانی طلاق ثلاثہ اپریل 2017 ء میں دی اور اپریل سے اگست 2017 ء تک میں نے اپنی عدت کا دورانیہ گزارا جس کے بعد اگست 2017 ء میں لاہور اپنی والدہ کے گھر منتقل ہوگئی، یکم جنوری 2018 ء کو بانی پی ٹی آئی سے ایک ہی نکاح ہوا۔
25 نومبر کو اسلام آباد کے سول جج قدرت کی عدالت میں پیش ہو کر بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا نے عمران خان اور ان کی اہلیہ کے خلاف دوران عدت نکاح و ناجائز تعلقات کا کیس دائر کیا تھا، درخواست سیکشن 494/34، B-496 ودیگر دفعات کے تحت دائر کی گئی۔
درخواست میں مؤقف اپنایا گیا تھا کہ میراتعلق پاک پتن کی مانیکا فیملی سے ہے۔ بشریٰ بی بی سے شادی 1989 ء میں ہوئی تھی، جو اس وقت پر پُرسکون اور اچھی طرح چلتی رہی جب تک عمران خان نے بشریٰ بی بی کی ہمشیرہ کے ذریعے اسلام آباد دھرنے کے دوران مداخلت نہیں کی، جو متحدہ عرب امارات میں رہائش پذیر اور درخواست گزار کو یقین ہے کہ اس کے یہودی لابی کے ساتھ مضبوط تعلقات ہیں۔
خاور مانیکا نے بتایا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی شکایت کنندہ کے گھر میں پیری مریدی کی آڑ میں داخل ہوئے اور غیر موجودگی میں بھی اکثر گھر آنے لگے، وہ کئی گھنٹوں تک گھر میں رہتے جو غیر اخلاقی بلکہ اسلامی معاشرے کے اصولوں کے بھی خلاف ہے۔
درخواست میں مزید کہا گیا تھا کہ عمران خان وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ازدواجی زندگی میں بھی گھسنا شروع ہوگئے، حالانکہ ان کو تنبیہ کی اور غیر مناسب انداز میں گھر کے احاطے سے بھی نکالا، ایک دن جب اچانک وہ اپنے گھر گئے تو دیکھا کہ زلفی بخاری ان کے بیڈ روم میں اکیلے تھے، وہ بھی عمران خان کے ہمراہ اکثر آیا کرتے تھے۔
انہوں نے درخواست میں بتایا تھا کہ بشریٰ بی بی نے میری اجازت کے بغیر بنی گالا جانا شروع کر دیا، حالانکہ زبردستی روکنے کی کوشش بھی کی اس دوران سخت جملوں کا تبادلہ بھی ہوا، بشریٰ بی بی کے پاس مختلف موبائل فونز اور سم کارڈز تھے، جو چیئرمین پی ٹی آئی کی ہدایت پر فرح گوگی نے دیے تھے۔
خاور مانیکا نے درخواست میں مؤقف اپنایا کہ نام نہاد نکاح سے قبل دونوں نے ایک دوسرے کے ساتھ غیر قانونی تعلقات قائم کیے، یہ حقیقت مجھے ملازم لطیف نے بتائی، فیملی کی خاطر صورتحال کو بہتر کرنے کی کوشش کی لیکن یہ سب ضائع گئیں، اور شکایت کنندہ نے 14 نومبر 2017 کو طلاق دے دی۔
خاور مانیکا کی درخواست کے مطابق دوران عدت بشریٰ بی بی نے عمران خان کے ساتھ یکم جنوری 2018 ء کو نکاح کر لیا، یہ نکاح غیر قانونی اور اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے، دوران عدت نکاح کی حقیقت منظر عام پر آنے کے بعد دونوں نے مفتی سعید کے ذریعے فروری 2018 میں دوبارہ نکاح کر لیا، لہٰذا یہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 496/ 496 بی کے تحت سنگین جرم ہے، دونوں شادی سے پہلے ہی فرار ہوگئے تھے۔درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو طلب کیا جائے اور انہیں آئین اور قانون کے تحت سخت سزا دی جائے۔









