مسلم لیگ ن نے الیکشن 2024ء کے نتائج کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کا الزام عائد کر دیا ہے۔
مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب کا پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ ملک میں بھرپور مہم چلائی گئی کہ الیکشن نہیں ہو رہے لیکن 8 فروری کو ملک بھر میں عام انتخابات کا انعقاد ہوا۔ 2013 ء کے بعد یہ اصلی الیکشن ہونے جا رہا تھا۔ الیکشن کے دن کی بات کی جائے تو صبح سے شام تک کسی جماعت نے کوئی سوال نہیں اٹھایا لیکن جب شام کو رزلٹ آنا شروع ہوئے تو پہلے ہی فارم 45 ٹی وی پر چل رہے تھے۔
مریم اورنگزیب نے کہا کہ اس وقت فارم مرتب کیے جا رہے تھے۔ ہم بھی وائٹ پیپر تیار کر رہے ۔ چار فیصد نتائج کو لے کو شور مچایا جا رہا تھا۔ ہم نے الیکشن کمیشن سےرابطہ کیا کہ ہمارارزلٹ روکا جا رہا ہے۔ ان کے وکلاء جو عدالت میں گئے، وہ فارم 45 لے کر نہیں صرف ٹی وی کے سکرین شارٹ لے کر گئے۔ ان کے پاس کوئی فارم 45 نہیں موجود تھے۔
انہوں نے کہا کہ اگر آپ کو فارم 45 پر اعتراض ہے تو اس کا جواز یہ سکرین شارٹ نہیں ، وہ فارم 45 ہیں جو اصلی ہیں۔ ان کے پاس فارم 45 موجود نہیں، اگر موجود ہیں تو الیکشن کمیشن کو دیں ، پتہ چل جائے کا کہ یہ اصلی ہیں یا جعلی۔
لیگی ترجمان نے کہا کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ برسوں سے جیتنے والے سیاست دان ہار جائیں اور کو نسلر نہ بننے والے جیت جائیں۔ پی ٹی آئی نے الیکشن کو متنازع بناکرجمہوریت کوڈی ریل کرنے کی کوشش کی۔خیبر پختونخوا میں آپ جشن منارہے ہیں اورپنجاب میں دھاندلی کا رونا رورہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ابھی انٹرنیشنل میڈیا کے سامنے جھوٹے کی پٹاری کھلنے والی ہے۔ پی ٹی آئی نے جھوٹا بیانیہ بنایا،سب سے زیادہ ہمیں نقصان پہنچانے کی کوشش کی جس کے ثبوت موجود ہیں، ہم نے تمام تصدیق شدہ چیزیں الیکشن کمیشن میں جمع کرائی ہیں۔
پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما عطاءاللہ تارڑ نےکہا کہ پی ٹی آئی نے الیکشن کو متنازع بناکرجمہوریت کو ڈی ریل کرنے کی کوشش کی اور اس کیلئے ڈیجیٹل دہشتگردی پر100ارب روپےخرچ کیے گئے۔
مریم اورنگزیب نے پی ٹی آئی اور مولانا فضل الرحمٰن کے اتحاد سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ جن مولانا صاحب کو میں جانتی ہوں ، یہ اتحاد مجھے ہوتا نظر نہیں آرہا۔ مولانا صاحب کی جماعت سیاسی جماعتوں کی طرح اپنا اعتراض الیکشن کمیشن میں جمع کرارہی ہے۔









