202

مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی میں حکومت سازی کیلئے معاہدہ طے

پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی میں حکومت سازی کیلیے معاہدہ طے پاگیا۔طویل ملاقات کے بعد دونوں پارٹیاں معاہدے پر متفق ہوئیں۔

تفصیلات کے مطابق اسحاق ڈار کی اسلام آباد میں واقع رہائش گاہ پر بلاول بھٹو کی قیادت میں پی پی وفد سے مسلم لیگ ن کے حکومت سازی کے حوالے سے کامیاب مذاکرات ہوئے۔مذاکرات میں ن لیگ اور پی پی کی رابطہ کمیٹی کے اراکین اور صدر ن لیگ شہباز شریف جبکہ بلاول بھٹو نے بھی شرکت کی۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سیکرٹری اطلاعات مریم اورنگزیب کے مطابق نامزد وزیراعظم شہباز شریف سے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ملاقات اسحاق ڈار کی رہائش گاہ پر ہوئی۔ جس میں دونوں جماعتوں میں حکومت سازی کا معاہدہ طے پا یا۔

اسحاق ڈار کی رہائش گاہ پر ہونے والی ملاقات میں دونوں جماعتوں نے شرائط تسلیم کر کے شراکت اقتدار کا معاہدہ طے کیا۔ جس کے مطابق صدر مملکت کا عہدہ پیپلزپارٹی کے پاس ہوگا جبکہ وفاق میں ن لیگ کا وزیر اعظم ہوگا۔

معاہدے کے تحت صدر پاکستان آصف زرداری جبکہ وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف ہوں گے۔ اس کے علاوہ قومی کا اسپیکر ن لیگ جبکہ سینیٹ چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی سے ہوگا۔پاکستان پیپلزپارٹی وفاقی کابینہ میں شامل نہیں ہوگی اور نہ ہی کوئی وزارت لے گی البتہ وزارت عظمیٰ کیلیے شہباز شریف کو ووٹ دے گی۔

اس سے قبل نواز شریف کی طلبی پر شہباز شریف لاہور سے اسلام آباد اور پھر مری پہنچے، جہاں انہوں نے نواز شریف سے اہم ملاقات کی۔ ذرائع کے مطابق ملاقات میں وفاق میں حکومت سازی کے حوالے سے گفتگو کی گئی جبکہ رابطہ کمیٹی نے نواز شریف اور شہباز شریف کو پیپلزپارٹی کے ساتھ رابطوں پر بریف کیا۔

بعد ازاں بلاول بھٹو کی قیادت میں پیپلزپارٹی کا وفد حکومت سازی کے حوالے سے ہونے والے مذاکرات کیلیے اسحاق ڈر کی رہائش گاہ پہنچا، جہاں شہباز شریف بھی پہنچے اور پھر بات چیت کو حتمی شکل دی۔

اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بڑا بیان دیتے ہوئے کہا کہ اگر مجھے مسلم لیگ ن کو ووٹ دینا پڑا تو ایسا میں صرف اپنی شرائط پر ہی کروں گا۔

بلاول بھٹو زرداری نے یہ بات سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے ریفرنس کی سماعت کے موقع پر سپریم کورٹ کے باہر میڈیا نمائندوں سے گفتگو میں کہی۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ حکومت کی تشکیل میں سست روی ڈائیلاگ کمیٹی کی غیر سنجیدگی کی وجہ سے ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور جمہوریت کو اس سست روی سے بہت نقصان پہنچ رہا ہے۔ ہم اپناموقف تبدیل نہیں کریں گے، ہم اس پر آج بھی قائم ہیں۔ تاہم اگر کسی اور نے اپنا موقف تبدیل نہ کیا تو رکاوٹ پیدا ہو جائے گی، اس کے نتیجے میںجو ہوا، اس نے نہ ملک اور نہ ہی اس کی معیشت کو کوئی فائدہ حاصل ہوگا۔

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ الیکشن 2024ء پر ہر کوئی سوال اٹھا رہا ہے۔حکومت سازی کا عمل جتنی جلد مکمل ہو، اتنا ہی سب کیلئے بہتر ہوگا۔ انہوں نے ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ ٹیکنیکل طو ر پرپاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے لیکن وہ کسی کیساتھ بات کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ دوسری طرف مسلم لیگ (ن) ہے، ہم یہ فیصلہ کر چکے ہیں کہ جو ہمارے پاس چل کر آئے گا صرف اس کیساتھ ہی بات چیت کا عمل شروع کیا جائے گا۔پاکستانی عوام نے کسی ایک سیاسی جماعت کو اتنی اکثریت ہی نہیں دی کہ وہ حکومت قائم کرسکے۔

بعد ازاں اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ میں نے اپنے مطابق اپنی انتخابی کمپئن چلائی اور اگر الیکشن جیت جاتا تو پاکستان پیپلز پارٹی سب سے بڑی پولیٹیکل پارٹی بن کر ابھرتی۔

ان کا کہنا تھا کہ الیکشن 2024ء میں پاکستانی عوام نے واضح پیغام دیدیا ہے کہ پاکستان کو کوئی ایک سیاسی پارٹی نہیں چلا سکتی۔ انہوں نے کسی ایک کو حکومت بنانے کا اختیار ہی نہیں دیا۔ عوام سمجھتے ہیں کہ اگر مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف نے حکومت کرنی ہے تو ایک دوسرے کیساتھ ملنا پڑے گا۔

بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ حقیقتاً پاکستانی عوام نے الیکشن 2024ء میں جو فیصلہ دیا ، اس پر تمام اسٹیک ہولڈرز بالخصوص سیاسی جماعتوں کو آپس میں مل بیٹھ کر بات کرنا پڑے گی تاکہ ملکی معیشت، وفاق اور پارلیمانی نظام کو بچا یا جا سکے کیونکہ اس شش وپنج سے نکلنے کا واحدحل اور طریقہ باہمی مشاورت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں