امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا کہنا ہے کہ اس ملک میں فیصلے پہلے ہوتے ہیں اور الیکشن بعد میں۔ بندر بانٹ پہلے ہوتی ہے الیکشن کے نام پر ڈرامہ بعد میں ہوتا ہے۔ اس سے بڑا مذاق ہماری قوم کے ساتھ کیا ہوگا؟
سراج الحق نے ایک بیان میں کہا کہ تمام بین الاقوامی اداروں نے اس الیکشن کو ڈرامہ قرار دیا ہے۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ 1970ء میں الیکشن ہوا۔ عوامی مینڈیٹ کو اہمیت نہیں دی گئی۔ 1977ء میں پھر دھاندلی زدہ الیکشن ہوا جس کا خمیازہ گیارہ سال قوم نے بھگتا۔
ان کا کہنا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر نے شفاف الیکشن کے انعقاد کا حلف اٹھایا تھا۔ یہ چلنے والے کمپنی نہیں ہے، ان کی کرپشن لوگوں کے سامنے ہے۔ اگرچہ ہمارا کوئی آدمی قومی اسمبلی میں نہیں گیا، ہماری جماعت کے نتائج جو فارم 45 میں ہیں وہ فارم 47 میں نہیں ہیں۔ نوازشریف نے ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگایا لیکن بعد میں چھوڑ دیا۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ہم نے پہلے ہی کہا تھا کہ ان کی سیاست اپنے لئے اور خاندان کے لئے ہے جبکہ جماعت اسلامی کی جدوجہد پاکستان کے لئے ہے۔ 30 سال سے یہ 2 کمپنیاں حکومت چلا رہی ہیں۔
سراج الحق نے کہا کہ جماعت اسلامی عوام اور ووٹ کی عزت کی کوشش کرتی رہے گی۔ جماعت اسلامی کسی خاندان نہیں عوام کیلئے ہے۔ ہم اپنی تحریک جاری رکھیں گے۔ جماعت اسلامی قانون کی بالادستی کیلئے کوشش جاری رکھے گی۔









