قومی اسمبلی کے اجلاس کا معاملہ الجھ گیا،قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کیلئے سمری صدر مملک عارف علوی کو ارسال۔
آئین کے آرٹیکل91 کی شق2 کے تحت عام انتخابات کے بعد 21 روزمیں قومی اسمبلی کے اجلاس کی طلبی لازم ہے ، نگران وزیراعظم نےقومی اسمبلی اجلاس بلانےکی سمری2روزقبل صدرمملکت کو بھجوائی تھی جس میں اجلاس 26 فروری کو بلانے کی ایڈوائس کی گئی تھی ، صدرمملکت، نگران وزیراعظم کی ایڈوائس کردہ تاریخ پرقومی اسمبلی اجلاس بلانےکے پابند ہیں۔
صدر مملکت کی جانب سےتاحال16 ویں نو منتخب قومی اسمبلی کااجلاس نہیں بلایا گیا ہے اور اس اقدام کی ابھی تک وجہ بھی سامنے نہیں آ سکی ہے تاہم آئینی ماہرین کا کہناہے کہ قومی اسمبلی کااجلاس طلب نہ کیاگیاتو29 فروری کوازخودطلب ہوجائےگا۔
یاد رہے کہ پنجاب میں سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کا انتخاب کر لیا گیاہے جس کے بعد اب کل وزیراعلیٰ کا انتخاب ہو گا، ن لیگ کی جانب سے امیدوار مریم نواز ہیں جبکہ پی ٹی آئی نے رانا آفتاب کو نامزد کیاہے ، دونوں رہنماوں کے کاغذات نامزدگی منظور ہو چکے ہیں۔ دوسر ی جانب سندھ اسمبلی میں وزیراعلیٰ کے انتخاب کیلئے کل اجلاس ہو گا۔
وفاق میں ن لیگ ، پیپلز پارٹی اور ایم کیوایم اتحادی حکومت بنانے جارہے ہیں اور ان کے متفقہ وزیراعظم کے امیدوار شہبازشریف ہوں گے جبکہ صدر مملکت کا عہدہ پیپلز پارٹی کے آصف زرداری سنبھالیں گے ، چیئرمین سینیٹ بھی پیپلز پارٹی سے ہی ہو گا لیکن قومی اسمبلی کا سپیکر ن لیگ کا ہو گا۔
دوسری جانب پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں اسپیکر کے عہدے کیلئے سیکرٹ بیلٹ کے ذریعے ووٹنگ ہوئی۔ اس عہدے کیلئے مسلم لیگ ن کے ملک احمد خان اور سنی اتحاد کونسل احمد خان بھچر کے درمیان مقابلہ تھا۔ووٹنگ کیلئے تین پولنگ بوتھ قائم کیے گئے تھے۔ ملک احمد خان نے 224 ووٹ حاصل کیے۔ جبکہ احمد خان بھچر صرف 96 ووٹ حاصل کرسکے۔ اسپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان نے ملک احمد خان سے حلف لیا۔









