پاکستان تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن کی جانب سے مخصوص نشستوں کے حصول کیلئے درخواست مسترد کیے جانے کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
اس حوالے سے سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ جمہوریت کی پیٹ پر خنجر گھونپا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن فیصلہ آیا ہے کہ مخصوص نشستیں سنی اتحاد کو نہیں مل سکتیں۔ آئین کا آرٹیکل 51واضح ہے ، کل 336نشستیں بنتی ہیں ۔ آرٹیکل 106صوبائی اسمبلی کی نشستوں سے آگاہ کرتا ہے۔
سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ نیشنل اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کا کام اہم ہے، جب تک قومی و صوبائی اسمبلیاں مکمل نہیں ہوتیں تو آئینی نشستوں پر انتخاب نہیں ہو سکتا۔ جیسے صدر مملکت اور سینیٹ کے الیکشن ہاؤس نامکمل ہوں تو نہیں ہو سکتے۔ الیکشن کمیشن نے سنی اتحاد کی سیٹیں نہیں دیں
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے وزیراعظم کے انتخاب سے پہلے فیصلہ کرنے کا کہا تھا ۔ ہمارے مطابق وزیراعظم کا انتخاب غیر آئینی ہے۔ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کا نشان لے لیا تھا اور اس نشان پر الیکشن میں حصہ نہیں لینے دیا ۔ لیکن کوشش ناکام ہوئی عوام نے باقاعدہ پی ٹی آئی کو مینڈیٹ دیا۔ الیکشن کمیشن نے 92ارکان کا نوٹیفیکیشن دیا ۔ پی ٹی آئی ممبران نے سنی اتحاد کونسل میں شرکت صرف مخصوص نشستوں کے لئے کی۔
انہوں نے کہا کہ ہماری 23 نشستیں بنتی تھیں۔ الیکشن کمیشن نے اعلان کیا کہ ہم یہ نشستیں آپ کو نہیں دے رہے۔ الیکشن کمیشن نے وہ نشستیں دیگر سیاسی جماعتوں کو دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو یہ آئینی غلطی ہو گی۔ الیکشن کمیشن شفاف انتخابات کے انعقاد پر استعفیٰ دے۔
پی ٹی آئی رہنما علی ظفر نے کہا کہ اس فیصلے کے بعد صدارتی اورسینیٹ کے انتخابات ہمیں قبول نہیں ہونگے ۔ ہم نے فیصلہ کر لیا ہے، الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج کریں گے ۔ ہمارا مطالبہ ہے صدارتی انتخابات اورسینیٹ کے انتخابات کو ملتوی کیا جائے۔
خیال رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستوں کے معاملے پر محفوظ فیصلہ سنا تے ہوئے درخواست مسترد کر دی ہے۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سنی اتحاد کونسل اسمبلیوں میں مخصوص نشستوں کی حقدار نہیں ہے۔









