سابق صدرعارف علوی کا کہنا ہے میرے خلاف آئین شکنی کامقدمہ چلانا ہے تو چلالیں،غیر آئینی اقدامات کا الزام لگانے والے عدالتوں میں جائیں۔
تفصیلات کے مطابق کراچی میں اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے عارف علوی کاکہناتھا کہ 6 میں جب پی ٹی آئی بنی تو میری رہائش گاہ پر پہلی پریس کانفرنس کی، بانی پی ٹی آئی کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے مجھے صدر کے عہدے نامزد کیا۔
سابق صدر کا کہناتھا کہ عمران خان پر 200 سے زائد کیسز کو یکجہ کرکے کیسز جلد سے نمٹائے جائیں۔،ملک مشکل صورتحال سے گزر رہا ہے، جس کا جو مینڈیٹ ہے دیا جائے، ملک کے استحکام اور معیشت کے لئے ضروری ہے کہ ایک دوسرے کو جوڑا جائے، پاکستان کو جوڑنے کے لیے سیاسی لوگ اور اسٹیبلشمنٹ اپنا کردار ادا کرے۔
عارف علوی کاکہناتھاکہ مجھے کوئی شکایت نہیں،بانی پی ٹی آئی نے مجھے صدر چنا،میری ڈھائی سال کی کارکردگی یہ ہے کہ میں نے کوشش کی دوریاں ختم کراؤں، سائفر میرے پاس بھیجا گیا تھا۔میرا حلف مجھے یہ کہتاہے کہاگر کوئی راز کی بات پتہ چلے تو اسے وزیراعظم کی اجازت کے بغیر بتایا نہ جائے۔
عارف علوی نے مزید کہا کہ میں نے بطور صدر آئین کی پاسداری کی ہے،پی ٹی آئی کا بنیادی اصول احتساب ہے اور میں اس پر قائم ہوں،بانی پی ٹی آئی واحد لیڈر ہے جو قوم کو اکٹھا کرسکتاہے،میں ہمیشہ سے کرپشن کے خلاف رہا،پاکستان کی بات کرتا ہوں اور ہمیشہ کرتا رہوں گا۔
سابق صدر کے مطابق اگر پچھلے دو سال میری کارکردگی کو دیکھا جائے تو میں نے پوری کوشش کی کہ میں اسٹیبلشمنٹ اور بانی پی ٹی آئی کے درمیان پل کا کردار ادا کروں، میں نے پارٹی کے اعتبار سے نہیں میں نے کام اپنے عہدے کی بنیاد پر کیا،میں اگر مینڈیٹ کی بات کررہا ہو تو وہ پارٹی کی بات نہیں ہے۔









