وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کو جاری رکھا جائے گا کیونکہ یہ ایک اہم پلیٹ فارم ہے۔
تفصیل کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف کے زیر صدارت اسلا م آباد میں خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کی (ایپکس) کمیٹی کا تعارفی اجلاس منعقد ہوا جس میں پاک فوج کے سربراہ آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سمیت دیگر اہم شخصیات نے بھی شرکت کی۔
اس اجلاس کی سب سے اہم بات وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اور بانی پی ٹی آئی کے قریبی ساتھی علی امین گنڈا پور کی شرکت کی۔ اس موقع پر انہوں نے دیگر تینوں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ جن میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور وزیراعلیٰ بلوچستا ن سرفراز بگٹی کیساتھ وزیراعظم کے ہمراہ گروپ فوٹو بنوائی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اجلاس میں پاکستا ن کے سابق نگران وزیرِاعظم انوارالحق کاکڑاور سابق ان کی کیبنٹ کے اراکین کو بھی کمیٹی اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ایپکس کمیٹی میں شرکاء کو اہم منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
وزیرِاعظم محمد شہباز شریف کا اجلاس سے خطاب میں کہنا تھا کہ ایس آئی ایف سی کی اپیکس کمیٹی نے نگران حکومت میں بھی مؤثر اور بھر پور کام کیا۔خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کو جاری رکھا جائے گا کیونکہ یہ ایک اہم پلیٹ فارم ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کو درپیش معاشی چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے سب کا اکھٹے بیٹھنا وقت کی ضرورت اورخوش آئندہے۔پاک فوج نے ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری لانے اور ایس آئی ایف سی کی کامیابی کیلئے غیر معمولی کام کیا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ آج کے اجلاس میں مختلف سیاسی جماعتوں کے منتخب نمائندے اور عسکری قیادت موجود ہے، پاکستان کی ترقی اور استحکام کے لیے ہم جمع ہیں، پاکستان کی خوشحالی کے لیے ہم سب یہاں جمع ہوئے ہیں۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ سابق نگران حکومت کا بھی مشکور ہوں انہوں نے محنت سے کام کیا، آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور ان کی ٹیم کا بھی شکر گزار ہوں، قومی مفاد میں بھرپور تعاون پر آرمی چیف کا خصوصی شکریہ، عسکری قیادت نے 16ماہ میں ہماری جو سپورٹ کی وہ مثالی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ایس آئی ایف سی کے قیام سے قبل سرمایہ کاری کے حوالے سے مشکلات تھیں، بیورو کریٹس مسائل حل نہیں کر پاتے تھے تو اس کی کچھ وجوہات ہیں، بدقسمتی سے سرخ فیتہ ہمارے پاؤں کی زنجیر بن چکا ہے، واضح پیغام ہے ملک کی ترقی اور سلامتی کیلئے ہم سب ایک ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ کپیسٹی کا نہ ہونا بڑی وجہ تھی اس لیے ایس آئی ایف سی قائم ہوا، ایس آئی ایف سی کے حوالے سے آرمی چیف نے کلیدی کردار ادا کیا، ہم دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ چکے تھے، پاکستان دیوالیہ ہونے کے بہت قریب تھا، سب جماعتوں نے مل کر پاکستان کو بچانے کا فیصلہ کیا ہے۔
شہباز شریف نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے پر عمل کرنے پر پوری ٹیم کو مبارکباد دیتا ہوں، امید ہے آئی ایم ایف قرض پروگرام کی آخری قسط آئندہ ماہ مل جائے گی، آئی ایم ایف کے ساتھ ایک اور پروگرام کے بغیر ہمارا گزارہ نہیں، ہمیں آئی ایم ایف کا ایک اور پروگرام چاہیے ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ہم دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ چکے تھے، سب نے اس وقت فیصلہ کیا تھا سیاست جاتی ہے تو جائے ریاست بچانی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کے زیر صدارت ہونے والے اس اجلاس میں محکموں کی بہتری، اداروں کی نجکاری اور معاشی اصلاحات کیلئے اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔اس کے علاوہ چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے وزیراعظم سے بھی اہم ملاقات کی۔
یہ بات ذہن میں رہے کہ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے دورمیں وزیراعظم محند شہباز شریف کی سربراہی میں خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا۔ اس میں 9 وفاقی وزرا کےساتھ ساتھ آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر اور اہم فوجی افسروں کو بھی شامل کیا گیا تھا۔
یہ فورم خلیجی ممالک سے انفارمیشن ٹیکنالوجی ، زراعت، معدنیات، دفاع اورتوانائی میں انوسٹمنٹ حاصل کرنے کے لیے تشکیل دیا گیا تھا۔









