206

الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں پر ارکان کو معطل کردیا

مخصوص نشستوں سےمتعلق سپریم کورٹ کےفیصلے پر عملدرآمد کے معاملے پر الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں پر ارکان کو معطل کردیا ہے۔

اس سلسلے میں الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری نوٹیفیکشن میں کہا گیا ہے کہ قومی اسمبلی سے19خواتین اور 3 اقلیتی اراکین کی رکنیت معطل کر دی گئی ہے۔ قومی اسمبلی سے معطل ہونے والوں میں ثمینہ خالد گھرکی، سائرہ تارڑ اور ثوبیہ شاہد شامل ہیں۔

اس کے علاوہ پنجاب اسمبلی میں خواتین کی چوبیس مخصوص نشستیں، سندھ اسمبلی سے 2خواتین اور ایک اقلیتی رکن اور خیبر پختوانخوا اسمبلی سے 21اراکین کی رکنیت معطل کر دی گئی ہے۔

خیال رہےکہ رواں ماہ چھ مئی 2024ء کو سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی درخواست سماعت کیلئے منظور کرتے ہوئے مخصوص نشستیں دیگر سیاسی جماعتوں میں تقسیم کرنے کے فیصلے معطل کر دیئے تھے۔

جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے مخصوص نشستوں سے متعلق سنی اتحاد کونسل کی اپیل پر سماعت کی۔ ایڈووکیٹ فیصل صدیقی نے دلائل کا آغاز کیا۔ وفاقی حکومت نے لارجر بینچ تشکیل دینے کی استدعا کی۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ موجودہ کیس آئین کے آرٹیکل 185 کے تحت اپیل میں سن رہے ہیں، موجودہ کیس آرٹیکل 184/3 کے تحت دائر نہیں ہوا۔ ابھی تو اپیلوں کے قابل سماعت ہونے پر فیصلہ ہونا ہے۔ ایک دفعہ قابل سماعت ہونا طے پا جائے پھر لارجر بینچ کا معاملہ بھی دیکھ لیں گے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ اگر کوئی سیاسی جماعت کسی وجہ سے انتخابی نشان نہیں لے سکی تو کیا اس کے ووٹرز نمائندگی کے حق سے محروم ہو جائیں گے؟ سیاسی جماعت کو اتنی ہی مخصوص نشستیں مل سکتی جتنی جیتی ہوئی نشستوں کے تناسب سے ان کی بنتی ہیں۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ہمیں پبلک مینڈیٹ کی حفاظت کرنی ہے۔ اصل مسئلہ پبلک مینڈیٹ کا ہے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ قانون میں یہ کہاں لکھا ہے کہ انتخابی نشان نہ ملنے پر وہ سیاسی جماعت الیکشن نہیں لڑ سکتی؟ جس پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ جی یہی سوال لے کر الیکشن سے قبل میں عدالت گیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں