204

ایرانی صدر ابراہیم رئیسانی کا ہیلی کاپٹر مل گیا،غیر ملکی اخبار کا دعویٰ

حادثے کا شکار ہونے والا ایرانی صدر کا ہیلی کاپٹر ریسکیو ٹیموں نے ڈھونڈ نکالا،غیر ملکی اخبار کا دعویٰ۔

روئٹرز کے مطابق سرکاری میڈیا نے بتایا کہ ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر کو تلاش اور بچاؤ ٹیموں نے دریافت کیا، تاہم، یہ تفصیل نہیں بتائی گئی کہ ہیلی کاپٹر کہاں تھا یا کوئی زندہ بچا ہے یا نہیں۔

ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی صدر ابراہیم رہیسی کے قافلے میں شامل 3 ہیلی کاپٹروں میں سے 2 ہیلی کاپٹر منزل پر پہنچ گئے تھے لیکن ایک نہیں پہنچ سکا تھا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق ابراہیم رئیسی ایران کے مشرقی آذربائیجان صوبے میں سفر کر رہے تھے۔ ہیلی کاپٹر حادثے کا یہ واقعہ ایرانی دارالحکومت تہران کے شمال مغرب میں تقریباً 600 کلومیٹر (375 میل) کے فاصلے پر آذربائیجان کی سرحد پر واقع شہر جولفا کے قریب پیش آیا۔ایرانی صدر آذربائیجان میں ڈیم کا افتتاح کرکے واپس آ رہے تھے۔

ایرانی وزیر داخلہ احمد واحدی نے سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والے تبصروں میں کہا، ’محترم صدر اور کمپنی کچھ ہیلی کاپٹروں پر سوار ہو کر واپس جا رہے تھے اور ایک ہیلی کاپٹر کو خراب موسم اور دھند کی وجہ سے سخت لینڈنگ کرنا پڑی۔‘ہیلی کاپٹر میں صدر رئیسی، وزیر خارجہ حسین امیرعبداللہیان، مشرقی آذربائیجان کے گورنر ملک رحمتی اور صدر کے سکیورٹی پرسنلز سوار تھے۔

صدر کا قافلہ تین ہیلی کاپٹرز پر مشتمل تھا اور کچھ میڈیا رپورٹس کے مطابق جس ہیلی کاپٹر کو حادثہ پیش آیا، ابراہیم رئیسی اسی میں سوار تھے۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق صدر ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر نے خراب موسم کے باعث ہنگامی لینڈنگ کی، جس کے بعد ان سے رابطہ نہ ہوسکا۔

تلاش کے اس عمل کے دوران ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن کے ایک رپورٹر نے بتایا تھا کہ جیسے جیسے اندھیرا اور سردی بڑھتی جا رہی ہے، اس جگہ کے قریب پہنچنے والا عملہ کار میں سفر کرنے سے گریز کر رہا ہے اور پیدل جا رہا ہے، اس علاقے میں سڑکیں پختہ نہ ہونے اور بارش کی وجہ سے زمین کیچڑ بن رہی ہے۔

ایمرجنسی سروسز آرگنائزیشن کے ترجمان بابک یکتاپرست نے بھی ایک بیان میں کہا تھا کہ اندھیرا چھانے کے باعث فضائی تلاشی کا عمل روک دیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ’بدقسمتی سے، پورے خطے میں شدید دھند کی وجہ سے فضائی کارروائیاں جاری رکھنا اب ممکن نہیں رہا، علاقے میں مزید ایمبولینسیں روانہ کر دی گئی ہیں‘۔

مسلح افواج متحرک

ایرانی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف محمد باقری نے فوج، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی (IRGC) اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تمام آلات اور صلاحیت کو ہیلی کاپٹر کی تلاش کے لیے استعمال کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔

تسنیم نیوز ایجنسی نے ان کے حوالے سے بتایا کہ ’مسلح افواج، آئی آر جی سی اور پولیس کمانڈ ابتدائی گھنٹوں سے ہی علاقے میں موجود ہیں۔‘

ایران کے کچھ سرکاری ذرائع ابلاغ نے قبل ازیں اطلاع دی تھی کہ ملک کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل (SNSC) نے سپریم لیڈر کی موجودگی میں اجلاس بلایا تھا۔لیکن چند ہی منٹوں میں، نامعلوم ذرائع کے حوالے سے دیگر ریاست سے منسلک میڈیا نے کہا کہ ایسی کوئی میٹنگ نہیں ہوئی اور یہ کہ گردش کرنے والی ”افواہیں“ غلط ہیں۔

سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے آئی آر جی سی اہلکاروں کے اہل خانہ سے ملاقات میں لاپتہ ہیلی کاپٹر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم امید کرتے ہیں کہ خدا معزز صدر اور ان کے ساتھیوں کو قوم کے بازوؤں میں واپس لوٹائے گا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’سب کو سرکاری ملازمین کے اس گروپ کی صحت کے لیے دعا کرنی چاہیے۔ ایرانی قوم کو فکرمند یا پریشان نہیں ہونا چاہیے، ملک کے کام میں کوئی رکاوٹ نہیں آئے گی‘۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں