190

عمران خان کو غیر معینہ مدت کیلئے جیل میں رکھنے کے آپشنز موجود

اسلام آباد: پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین عمران خان کو عدالتوں سے ریلیف مل رہا ہے لیکن حکام کے پاس سابق وزیراعظم کو غیر معینہ مدت تک جیل کی سلاخوں کے پیچھے رکھنے کیلئے آپشنز موجود ہیں۔

ایک کے بعد ایک کرکے عمران خان کیخلاف مقدمات ختم ہو رہے ہیں جس سے پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں میں امید پیدا ہوئی ہے کہ پارٹی کے سینئر ترین رہنما چند ہفتوں میں جیل سے باہر آ سکتے ہیں لیکن سرکاری ذرائع کی سوچ اس سے مختلف ہے۔

جس وقت 1971 کے واقعے کے حوالے سے عمران خان کی متنازع ٹوئٹ نے ایف آئی اے کو عمران خان اور دیگر کیخلاف ایک اور مقدمہ قائم کرنے پر غور کا موقع فراہم کیا ہے وہیں عمران خان اور بشریٰ بی بی کیخلاف نیب والے توشہ خانہ ریفرنس دوم دائر کرنے کیلئے درست وقت کا انتظار کر رہے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اقدام اس بات کو یقینی بنائے گا کہ عدت کیس میں بری ہونے کے باوجود دونوں میاں بیوی سلاخوں کے پیچھے رہیں۔ عمران خان کو چار مختلف کیسز میں عدالت نے سزائیں سنا رکھی ہیں۔ تین مقدمات میں عمران خان اور ان کے ساتھی ملزمان کو یا تو بری کر دیا گیا ہے یا ان کی سزائیں معطل کر دی گئی ہیں۔ اب صرف ایک کیس ہے جس میں عمران خان کی سزا ان کی جیل سے رہائی میں بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔

باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ توشہ خانہ کیس دوم کے حوالے سے نیب کی تحقیقات مکمل ہو چکی ہیں اور اب وہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کیخلاف احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کرنے کیلئے تیار بیٹھا ہے۔ ایک ذریعے کا کہنا تھا کہ ریفرنس درست وقت پر دائر کیا جائے گا۔

نیب کے پہلے توشہ خانہ ریفرنس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 8 فروری کے انتخابات سے قبل احتساب عدالت نے 14 سال قید کے علاوہ ایک ارب روپے سے زائد جرمانے کی سزا سنائی تھی لیکن جب اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر ہوئی تو عدالت نے عمران اور ان کی اہلیہ کی سزا معطل کر دی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں