185

انوارالحق کاکڑ نے خود کو گندم امپورٹ اسکینڈل کی تحقیقات کیلئے پیش کردیا

سابق نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے خود کو گندم امپورٹ اسکینڈل کی تحقیقات کے لیے پیش کردیا۔

اسلام آباد میں گفتگو کرتے ہوئے انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ وہ ثبوتوں کے ساتھ کسی بھی عدالت میں حساب دینے کے لیے تیار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ الزام یہ لگایا جاتا ہے کہ ریاستی اداروں کی وجہ سے ان پر ہاتھ نہیں ڈالا جارہا۔

یہ بھی پڑھیں
گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کب اور کس نےکیا؟ سرکاری دستاویزات میں سب سامنے آگیا
گندم اسکینڈل: نئی حکومت آنےکے بعد بھی 98 ارب 51 کروڑ روپےکی گندم درآمد ہونےکا انکشاف
انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ گندم امپورٹ کرنے کی اجازت 2019 میں دی گئی، شہبازحکومت نے اسی اجازت کے تحت امپورٹ کرنے کا فیصلہ کیا۔

سابق نگران وزیر اعظم نے کہا کہ چار ہزار روپے امدادی قیمت پچھلی حکومت مقرر کر کے گئی، عالمی قیمتیں گرنے کے بعد وہی لوگ آٹا سستا ہونے کا کریڈٹ لے رہے ہیں۔

انور الحق کاکڑ نے کہا کہ ان کے دور میں 4 لاکھ ٹن اور شہباز حکومت آنے کے بعد 9 لاکھ ٹن گندم درآمد کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ صرف ڈھائی دن کے استعمال کی گندم امپورٹ کرنے پر قیامت آگئی ہے، 20 سال سے 13 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا نہ کرنے کے پیسے دینے سے کوئی قیامت نہیں آئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں