242

بنگلادیش: سول نافرمانی تحریک میں جھڑپیں، 13 پولیس اہلکاروں سمیت 91 افراد ہلاک بنگلادیش:

ڈھاکا: بنگلادیش میں کوٹہ سسٹم مخالف طلبہ کی جانب سے سول نافرمانی کی تحریک کے اعلان کے بعد پرتشدد احتجاج میں ہلاکتوں کی تعداد 91 ہوگئی جن میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سول نافرمانی کی تحریک چلانے والے طلبہ نے وزیراعظم حسینہ واجد سے استعفے کا مطالبہ کیا ہے اور بڑے پیمانے پر حکومت مخالف احتجاج کا بھی اعلان کیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کا بتانا ہےکہ طلبہ کے احتجاج کے دوران ہونے والی جھڑپوں میں 91 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جن میں 13 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں جب کہ پولیس اور مظاہرین کے درمیان تازہ جھڑپیں بھی ہوئیں جن میں پولیس نے آنسو گیس اور دیگر ہلکے ہتھیاروں کا استعمال کیا جس میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔

رپورٹس کے مطابق اتوار کے روز دارالحکومت ڈھاکا اور شمالی اضلاع میں ہلاکتیں ہوئیں جب کہ پولیس حکام کا بتانا ہےکہ مظاہرین نے سراج گنج کے علاقے میں پولیس پر بھی حملہ کیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق کوٹہ سسٹم کے خلاف جولائی سے شروع ہونے والے احتجاج میں پرتشدد واقعات کے نتیجے میں اب تک 200 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جب کہ طلبہ نے سول نافرمانی کی تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے اور مظاہرین شیخ حسینہ واجد کے استعفے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

ملکی صورتحال پر بنگلادیشی وزیراعظم نے کہا ہےکہ جو لوگ احتجاج کے نام پر یہ سب تباہی کررہے ہیں وہ طالب علم نہیں جرائم پیشہ افراد ہیں، عوام کو ان کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹنا چاہیے۔

رپورٹس کے مطابق حکام نے کرفیو والے علاقوں میں انٹرنیٹ بھی بند کردیا ہے اور ایک ہفتے میں کم ازکم 11 ہزار افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں