276

آج کا انسان لکھاری یا بیماری

میاں مقصود احمد ریحان

عنوان: آج کا انسان لکھاری یا بیماری

آج کے دور میں ایسے بہت سے لوگ ہیں جو ہر کام يا ہنر صرف نام کے لئے کرنا چاہتے ہیں۔ کسی نے ڈاکٹر بننا ہے تو نام کے لئے، کسی نے انجینیئر بننا ہے تو نام کے لئے، یعنی یہ بات طے ہے کہ نام کے لئے انسان کچھ بھی بن جاتا ہے، تاکہ اسکو اس نام سے مخاطب کیا جائے۔

بالکل اسی طرح میں نے لکھاری کی دنیا میں بھی ایسے بہت سے لوگ دیکھے ہیں جو صرف نام کے لئے کورس کرتے ہیں کورس کیا؛ سند ملی بس ہم لکھاری یا لکھاریہ بن گئے۔

اب لوگ ہمیں لکھاری کہہ کر مخاطب کریں گے ہمیں فخر ہو گا؛ ہماری واہ واہ ہو گی بس جب کے یہ بات بھول جاتے ہیں؛ لکھاری وہ ہے جو صحیح لفظوں میں لکھاری ہونے کا حق ادا کریں۔
لکھاری کا حق تب تک ادا نہیں ہوتا جب تک آپ لکھتے نہ رہیں اور لکھے بھی ایسا جو اصول کے مطابق ہو؛ کوئی دیکھ کر کہہ سکے آپ لکھاری ہیں۔

مگر افسوس دنیا میں ایسے لوگ بہت بہت کم ہیں۔ پہلے مجھے کبھی کوئی لکھاری کا پتا نہیں تھا مگر جب سے لکھاری کی دنیا میں آئی ہوں میں نے ہر لمحہ ہر ایک کو لکھاری دیکھا ہے ایسے لکھاری بھی دیکھیں ہیں جو افسانہ ، ناول تو لکھتے ہیں مگر اس میں رموز و اقاف کا استعمال نہیں ہوتا۔

مگر انکا لکھا پبلش ہو رہا ہوتا ہے انکے لکھے پر لوگ واہ واہ کرتے ہیں اور مجھے افسوس ہوتا ہے ایسے لوگوں پر جو واہ واہ کرتے ہیں اور اس لکھاری پر جو واہ واہ سن کر خود کے لکھاری ہونے پر فخر کرتے ہیں۔

جب انھیں کہا جائے آپ کے لکھے میں یہ غلطیاں ہیں رموزواقاف نہیں ہے تو وہ اس بات کو قبول نہیں کرتے کیونکہ سو لوگوں میں اُنکی واہ ہوئی اور ایک کے کہنے پر وہ کیوں اس بات کو قبول کریں انہیں یہ بات پسند ہی نہیں ہوتی ۔

لہذا آج کا انسان لکھاری کم بیماری زیادہ ہے وہ بیماری جو ایک سے دوسرے میں جلدی منتقل ہو جاتی ہے۔ اسطرح کے لکھاریوں کی وجہ سے آج کے لکھاری بھی برباد ہو رہے ہیں۔ بہت سے لوگ ہیں جو سچ میں لکھاری بھی بننا چاہتے ہیں مگر جب وہ غلط لکھاری سے ملتے ہیں جیسی رہنمائی وہ کر دیں تو ہمارے نئے لکھاری خوش ہو جاتے ہیں۔
آج کل کے بہت سے لوگ لکھاری کم بیماری زیادہ ہے اسکی ایک اور وجہ بھی ہے کہ لکھاری جو ہو وہ سچ کو لکھنے کی طاقت رکھتے ہیں مگر میں نے بہت سے لکھاری دیکھے ہیں جو سچ نہیں لکھتے؛ صرف اس لیے کہ دنیا کیا کہے گی جو لکھاری اپنے قلم کا استعمال ہی سچ پر نہ کرے تو کس بات کا لکھاری ؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں