388

جب ایک مجبور باپ کو پتا چلا کہ اس کی پیاری بیٹی پر جہیز کی وجہ سے شادی کی پہلی رات ہی ظلم کی انتہا کر دی گئ

جب ایک مجبور باپ کو پتا چلا کہ اس کی پیاری بیٹی پر جہیز کی وجہ سے شادی کی پہلی رات ہی ظلم کی انتہا کر دی گئ تو وہ بے بس باپ کانپتی ٹانگوں بھیگی آنکھوں اور دل میں ایک بوجھ لۓ اپنی بیٹی کے سسرال کی طرف روانہ ہوا وہاں پہنچے پر ظالموں نے اس باپ کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا
بے بس باپ کے سامنے اس کی مظلوم اور محبت کرنے والی بیٹی کے منہ پر طمانچے مارے گۓ گندی گالیاں دی گئ باپ بچارا بیٹی کی محبت میں ان ظالموں کے کی منت سماجت کرتا رہا
ظالم کا دل جب ظلم سے نہ بھرا تو اسلحہ نکال کر جان لینی کی کوشش کی جس پر اہل علاقہ نے دخل اندازی کرتے ہوۓ مظلوم خاندان کی جان بچائی
زیر نظر تصویر میں آپ شہزاد اور اس کے باپ کو دیکھ سکتے ہے کہ اسلحہ اٹھاۓ کیسے اپے سے باہر نہتے اور بے بس باپ کو للکار رہے ہے
اگر ہم اس دل دہلا دینے ظلم پر بھی آواز نہیں اٹھا سکتے تو ہمارا فیس بک چلانے یا صحافی ہونے کا کوئی فائدا نہیں ظلم پر خاموش رہنا بھی ظالم کے ساتھ دینے کے مترادف ہے
اب وقت ہے بطور انسان اس ظلم کے خلاف کھڑانا ہونا پڑے گا اگر ایسے درندوں کو انجام تک نہ پہچایا گیا تو کل کو اپ کی یا میری بہن بیٹی بھی ہوسکتی
ظلم تو پھر ظلم پے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں